showcase demo picture

باڈی لینگویج Part-1

باڈی لینگویج
Part-1
ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ
چکوال سیمینار سے خطاب۔۔مورخہ 25 مارچ، بروز جمعہ
ہانیمن نے آرگینن دفعہ ایک میں لکھا ہے۔
The duty of a physician is to restore the sick to health
لہذا اس گول کوسر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک معالج کو مریض کے جسمانی خدو خال ،بناوٹ ، اس کی حرکات و سکنات اور نفسیات سے آگاہی حاصل ہو۔ ( بد قسمتی سے ہومیوپیتھک کا لجوں میں اس حوالے سے زیادہ توجہ نہیں دی جاتی)۔ہماری بہت ساری مزاجی دواؤں میں جذباتی پہلو پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی۔ دواؤں کو اس حوالے سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ درست دوا کی پہچان اور شناخت میں ذہنی علامات کی ہمیشہ سے بڑی اہمیت رہی ہے۔ لہذا اگر ہم مریض کی جذباتی کیفیات کو سمجھ کر اسے ریپرٹری کی زبان عطا نہیں کر سکتے تو درست دوا کے انتخاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
محترم ڈاکٹر حضرات !
کیس ٹیکنگ میں مشاہدہ کی بہت اہمیت ہے۔ اس بات پر غور کریں کہ مریض کیا کرتا اور کیا کہتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہمارے جسمانی اعضاء کبھی بھی مکمل سکوت میں نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں آنکھیں ،چہرے کے پٹھے کسی نہ کسی حوالے سے حرکت میں رہتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارا جسم بھی باتیں کرتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہم اپنی زبان پر تو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ لیکن باڈی لینگویج کو سنسر کرنا آسان نہیں۔جسمانی اعضاء کی ہر حرکت کا ایک پس منظر اور مقصد ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی حرکت محض حادثاتی نہیں ہوتی۔ کہا جاتا ہے وہ بات جو نہیں کہی جاتی زیادہ اہم ہوتی ہے۔
وہ بات سارے افسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
زبان سے ادا کیے گئے الفاظ اگرچہ واقعہ بیان کرتے ہیں لیکن باڈی لینگویج مکمل واقعہ بیان کرتی ہے۔ باڈی لینگویج دراصل وہ دور بین ہے جو انسانی دل و دماغ میں جھانک کر دور کی خبر لاتی ہے۔
لہذا کیس ٹیکنگ کے دوران جب مریض کی زبان سے ادا کئے گئے الفاظ کو غور سے سنتے ہیں۔ بلکہ اس کے لب و لہجہ پر بھی دھیان دیتے ہیں۔ مثلاً اناکارڈیم کے سرد ،سپاٹ اور خشک لہجہ پر غور کریں اگر وہ کسی قتل کا واقعہ بھی سنا رہا ہوگا تو یوں جیسے ریڑھی والے سے پیاز خرید رہا ہے۔سنگدلی کی انتہا ہے۔
باڈی لینگویج سے ایسے قفل کھولنے میں مدد ملتی ہے جنہیں زبان کھولنے سے قاصر ہوتی ہے۔ مریض کی شخصیت کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔مریض کی ذہنی و جذباتی کیفیت کا بہتر انداز ہ لگا یا جا سکتا ہے۔ باڈی لینگویج کی مدد سے آپ مزمن اور پیچیدہ امراض ،حاد امراض، نفسیاتی امراض ،بچوں کے کیس، گونگے بہرے مریضوں کے کیس آسانی سے لے سکتے ہیں۔
مثلا Waiting room کو ہی لے لیجئے۔ مریض کے بیٹھنے کی پوزیشن ،مریض Waiting room میں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ کتنے Interaction میں ہے۔ بات چیت میں حصہ لے رہا ہے ۔خاموش ہے، کسی کتاب ،رسالے کی ورق گردانی کر رہا ہے یا موبائل پر میسج سینڈ کر رہا ہے۔آرسینکم اور ارجنٹم نائیڑیکم ایسے لوگ ہیں کہ ان سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ Waiting room میں بیٹھے کئی بار اٹھ کر ڈاکٹر کے کمرے میں جھانکے کی کوشش کریں گے۔ بلکہ بعض اوقات تو دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی باز نہیں آتے۔فاسفورس ، لیکیسس ایسے ہیں کہ ان سے خاموش رہا ہی نہیں جا سکتا۔برائی اونیا، نیٹرم میوراور سلیشیا ایسے کہ ان سے زیادہ بولا ہی نہیں جاتا۔
مریض Consultation room میں داخل ہوا تو کیسے ہوا ؟ اسکی چال کیسی ہے؟ ڈھیلے ڈھالے انداز میں داخل ہوا، تیزی سے داخل ہوا ۔اندر آتے ہی چاروں جانب معائنہ کیا۔ کسی درد تکلیف کا شکار ہے۔چہرے سے شرمیلا پن دکھائی دے رہا ہے۔آیا وہ آپ کو Eye contactدے رہا ہے۔آپ سے زیادہ سوال جواب کرتا ہے یا اپنی کہے جا رہا ہے۔یہ سب باڈی لینگویج کا حصہ ہے۔
مریض جتنا قریب ہو کر بیٹھنا پسند کرتا ہے اس کا مطلب کہ وہ extrovert ہے، کھلے مزاج کا مالک ہے۔جیسے فاسفورس۔ہمیں اس کا کیس بھی ایسے ہی مزاج کی دواؤں میں تلاش کرنا ہو گا۔ ایسے مریض جو سر جھکا لیتے ہیں یا Eye contact نہیں دیتے اس کا مطلب کہ وہ کچھ چھپا رہے ہیں۔یا شرما رہے ہیں۔
کچھ لوگ اپنے بازو کراس کر کے رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگ Reserved ہوتے ہیں۔اور جو لوگ بازو کراس کر کے اور پاؤں پھیلا کر کھڑے ہوں اس مطلب کہ یہ لوگ اپنی ضد، نظریے یا خیالات میں سختی رکھتے ہیں۔ آسانی سے قائل ہونے والے نہیں۔ کسی اتھارٹی کو نہیں مانتے۔ جو اپنے من میں آئے وہی کرتے ہیں۔
اور اگر کسی نے اپنے ہاتھ اپنی Hips کے پیچھے باندھ رکھے ہوں تو اس کا مطلب کہ یا تو وہ تھکا ہوا ہے، کسی کے انتطار میں ہے یا یہ بے صبری کی علامت ہے۔
برائی اونیا کا مریض ہو گا بے حس و حرکت لیٹا ہو گا۔سوالات کے جواب دینے سے گریز کرے گا۔اتنا بے حس و حرکت کہ اگر کمرے میں کوئی لائٹ بھی جلائے تو اسکی بند آنکھیں وہ بھی برداشت نہیں کر تیں۔کالوسنتھ یا میگنیشیا فاس کا مریض ہو گاتو آگے کو دوہرا ہو گا۔
جیلسیمیم کا مریض ہو گا تو نقاہت اس کے انگ انگ سے عیاں ہو گی۔شکایت کوئی بھی ہو اگر علامات میں نقاہت نمایاں ہو تو جیلسیمیم کو کبھی نہ بھولیں۔
نکس وامیکا کا بیوروکریٹک رویہ اآپ محسوس کریں گے۔ علامات بیان کرے گا تو انتہائی نفاست اور تر تیب سے ، لائیکو، نکس اور اورم میٹ کا اندازِ حکمرانی نمایاں ہوتا ہے۔بیورو کریٹک رویہ جن دواؤں میں پایا جاتا ہے نکس وامیکا، اورم میٹ ،پلاٹینا، لائیکو پوڈیم ۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض مریض کلینک میں آ کر بیٹھ جائیں گے اور جب تک آپ ان سے مخاطب نہ ہو ں وہ بات چیت میں پہل نہیں کرتے۔مثلاً نیٹرم میور، اورم میٹ، برائٹا کارب، برائی اونیا، سیپیا، سلیشیاوغیرہ۔ نیٹرم میور کیا ہے۔ جذبات کا گہرا سمندر ہے۔ جس کے اوپر لہریں نہیں اٹھتیں۔ اگر کسی نے نیٹرم میور کو سمجھنا ہے تو انگریزی فلم Titanic کو ضرور دیکھئے۔ جہاں وہ خاتون اپنی Love story اپنے پوتے کو بیان کر تی ہے اور کہتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

3 Responses to

باڈی لینگویج Part-1

    Anonymous
    Commented:  February 28, 2018 at 8:44 PM
    ڈاکٹر صاحب آپ کی اس نوازش پر آپ کا بہت ممنون ہوں .اللّهآپ کو صحت اور خوشی نصیب فرماے..
    Reply
    Anonymous
    Commented:  March 3, 2018 at 9:53 AM

    Very good very informative lecture!!!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.