showcase demo picture

علامات کی اہمیت پارٹ 2

علامات کی اہمیت پارٹ 2
۶۔ RELIABLE SYMPTOMS
قابل اعتبار علامات
مثلاً ایک ایسا کیس ہے جہاں Totality مشکوک ہے اور Essence مفقود یا Essence اور Totality ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ تو اس کا ایک حل یہ ہے کہ مریض کی دو چار قابل اعتبار علامات کی بنا پر دوا کا انتخاب کرلیں۔ یا کوئی عجیب و غریب علامت ایسی مل جائے جو کیس میں موجود باقی علامات کی تائید میں ہو ۔ ایسی علامات چاہے ذہنی ہوں ، جسمانی یا جذباتی اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
مثلاً
۱۔ ایک مریض جسے بہت پرانی قبض ہے۔
۲۔ نیند نہیں آتی۔
۳۔ ٹھنڈے مشروبات سے تکلیف بڑھتی ہے۔
۴۔ کچھ کھانے کو جی نہیں کرتا۔
۵۔ کھانے کے بعد پیٹ پھول جاتا ہے۔
یہ پانچ علامات ہیں جن پر ہم بھروسہ کر سکتے ہیں۔اگر ان پانچوں کو ریپرٹرائز کریں تو دوا لائیکوپوڈیم بنتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس ایک کلیدی علامت بھی ہے۔ مریض کے بیان کے مطابق اسے یہ احساس رہتا ہے : جیسے اس کے چہرے پر انڈے کی سفیدی خشک ہو گئی ہو۔” لہذا یہ کلیدی علامت جب بقایا چار علامات کوSupport کرتی ہے تو دوا ایلومینا بنتی ہے۔

۷۔ MAIN PATHOLOGY
دوران پریکٹس ایسے کیس بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔جہاں Essence,،کلیدی علامات اور مجموعہ علامات میں کچھ نہیں ملتا ، نہ ہی قابل اعتبارعلامات ملتی ہیں۔ وہا ں صرف Main pathology پر گزارہ کرنا پڑتاہے۔
مثلاً: ایک دیہاتی کسان ہے۔ یا ریڑھی والا ہے یا کوئی موٹے دماغ والا مزدور ہے اور اپنے سر درد کی دوا لینے آیا ہے۔ سوائے سر درد کی چند عمومی علامات کے باقی جسم کی کوئی خاص علامات نہیں ملتیں۔ لیکن آپ اس سے جذباتی علامات کے بارے میں سوالات شروع کر دیتے ہیں۔
مثلاً :
س۔ کیا آپ حساس ہیں؟
ج۔ جی ہاں۔
س۔ کیا آپ کو زندگی میں کسی واقعہ پر دکھ اور پریشانی ہوئی ہے؟
(اب ایسا کون شخص ہو گا جسے دکھ اور پریشانی نہ ہوئی ہو)
وہ کہتا ہے۔جی ہاں پچھلے سال میری دادی فوت ہوئی تھی ۔
س۔ کیا آپ روئے تھے؟
ج۔ جی ہاں۔
س۔ لوگوں کے سامنے یا علیحدگی میں ؟
ج۔ مجھے لوگوں کے سامنے رونا اچھا نہیں لگتا۔
س۔ کیا آپکو غصہ آتا ہے؟
ج۔ جی ہاں۔
س۔ کیا آپ کو گرمی لگتی ہے
ج۔ جی ہاں گرمی تو سب کو لگتی ہے، مجھے بھی لگتی ہے۔
آپ اس انٹر ویو کی بنیاد پرنیٹرم میور کے حق میں فیصلہ صادر کردیتے ہیں۔کیونکہ آپ کے خیال میں مریض میں نیٹرم میور کا Essence پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا کیس ہے جہاں آپ زبردستیEssence کو گھسیڑ رہے ہیں۔ آپ مریض کی زبان سے ایسے جوابات اگلوانا چاہتے تھے جو آپکو نیٹرم میور تک لے جائیں۔ ایسی صورت حال کے بارے میں جارج وتھالکس نے کہا ہے
Don’t guide your questions.
Do not ask suggestive questions.
۸۔ RECENT PATHOLOGY
یہ ایسے کیسز ہوتے ہیں جہاں آپ کو عارضی طور پرRemote patholoty اورمجموعہ علامات کو نظر انداز کر کے صرف Recent pathology (حالیہ شکایات) کو مد نظر رکھ کر دوا تجویز کرنا پڑتی ہے۔اور ایسا اکثر مزمن امراض کے علاج کے دوران حادامراض ظاہر ہو جانے پر کرنا پڑتا ہے۔ایسی صورت حال میں دیکھنا پڑتا ہے کہ مریض کی اچانک صحت گرنے کا کیا سبب ہے ممکن ہے ہفتہ دس دن پہلے اسے زہر خورانی ہونے پر شدید اسہال لگے ہوں یا کسی ایکسیڈنٹ میں خون ضائع ہو گیا ہو، بازو ٹوٹ گیا ہو، باس سے جھگڑا ہو گیا ہو۔ ایجنٹ پیسے لے کر بھاگ گیا ہو۔کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
پتھالوجی چاہے ذہنی ہو ، جسمانی یا جذباتی، مدِ نظر رکھنا پڑتی ہے۔

۹۔ 3 KEYNOTES ,DIFFERENT AREA
یہ ایسی صورتحال ہے جہاں آپ کے پاس تین کلیدی علامات ہیں۔ اور تینوں ایک ہی دوا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن تینوں کا تعلق کسی ایک عضو کے بجائے جسم کے مختلف حصوں سے ہونا چاہے۔ اس صور ت حال کو Three legged stool بھی کہا گیا ہے۔
مثلا ایک کیس میں مریضہ جسے بیضتہ الرحم میں رسولیاں ہیں، کے بیان کے مظابق :
۱۔ سو کر اٹھنے پر طبیعت بہت خراب رہتی ہے۔ (111)دوائیں
۲۔ گلا درد کرتا ہے اورمائعات پینے میں دقت پیش آتی ہے (31 )دوائیں
۳۔ جلد بہت حساس ہے۔ (5 ) دوائیں
یہ تینوں کلیدی علامات باہم مل کر لیکسس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
دوسری مثال لیں۔
ایک اورمریضہ جسے رحم میں رسولیاں ہیں:
اسے یہ احساس
۱۔ جیسے اندام نہانی کے راستے سب کچھ باہر آ جائے گا۔
۲۔ مقعد پر مسلسل بوجھ اور پاخانہ کی حاجت۔
۳۔ یہ احساس جیسے کسی نے دل کو شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔للیم ٹگ کی طرف اشارہ ہے۔

۱۰۔ KEYNOTE ESSENCE
بعض کمزور کیسوں میں خوش قسمتی سے ایک ایسی کلیدی علامت مل جاتی ہے۔ جو سارے کیس کی جان ہوتی ہے۔ یہ کلیدی علامت بذات خود کسی دوا کاEssence ہوتی ہے۔ اور سارا کیس اسی کے گرد گھومتا ہے ۔ مثلاً مریض کا یہ بیان کہ ” دل کو کسی نے شکنجے یا مٹھی میں جکڑ رکھا ہے ” ایک ہی لفظ ہے سکڑاؤ یا تنگی (Constriction) جس کے گرد ساری دوا گھومتی ہے۔وہ ہے!
کیکٹس گرینڈی فلورس۔
جسم کی کسی بھی شکایت میں اگرConstrictionنہیں ہے توکیکٹس کے بارے میں سوچنابے سودہے چاہے وہ دل ہو، مثانہ ہو،اعضائے تناسل ہوں، سر ہو، گلاہو،مقعدہو،کچھ بھی ہو۔
بوننگ ہاسن نے لکھا ہے، جو دوا جسم کے کسی ایک عضو پر اپنا کلیدی اثر رکھتی ہو اگر وہی علامت کسی دوسرے عضو میں ملے تو وہی دوا کام کرے گی۔
اس طرح آرسنکم البم کا سارا کیس ایک لفظ ’’عدم تحفظ ‘‘کے گرد گھومتا ہے۔
مثلاًپیچش میں( tenesmus) مروڑ پڑنا۔اس علامت پر43 دوائیں ہیں جن میں پاخانے کے دوران مروڑ پڑتاہے۔ لیکن صرف ایک دواجس میں مروڑ کو آرام آتاہے وہ نکس وامیکا ہے۔
جلسیمیم کی مثال لیں ، اگر نقاہت اور آنکھوں پر بوجھ نہیں ہے تو جلسیمیم دوا نہیں ہے۔

۱۱۔ DOUBLETS , TRIPLETS
اسے آپ دو یا تین ادویات کاسیٹکہہ سکتے ہیں۔کسی بھی موجودہ کیس میں ایسی دو یا تین علامات جو الگ الگ تو اتنی اہم نہ ہوں تا ہم وہ آپس میں مل کر کسی متفقہ دوا کی طرف اشارہ کرتی ہوں، کام آ سکتی ہیں۔ انہیں آپ علامات کا خصوصی ملاپ یا سنگھم کہہ سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں تجربہ کارڈاکٹر حضرات زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنھوں نے بہت سارے کیسوں میں ایسی دو تین علامات نوٹ کی ہوتی ہیں کہ وہ باہم مل کر فلاں دوا کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
مثلاً بھگندر (Fistula )کا مریض ہے لیکن خاص قابل ذکر علامات نہیں ملتیں۔ مریض کا بیان ہے۔
ا۔ کوئی بھی دماغی کام کروں تو سر درد ہو جاتا ہے۔ (99)
ب۔ ثقیل اور نہ ہضم ہونے والی اشیا کھانے کو جی کرتا ہے۔ (7)
پ۔ پھل ناموافق رہتے ہیں۔ (46)
یہ تینوں علامات الگ الگ غیر اہم ہیں۔ تاہم جب انہیں ایکSet میں جوڑ کر دیکھتے ہیں تو کلکیر یا فاس کا کیس مضبوط دکھائی دیتاہے۔ اور کلکیریا فاس یوں بھی فسچولا کی اہم دوا ہے۔

۱۲۔ THREE KEYNOTES, ONE AREA
یہ صورت حال نمبر 9 سے مختلف ہے۔ اس صورت حال کے مطابق ہمیں 3,2,یا 4 کلیدی علامات مل رہی ہیں اوران کا تعلق ایک ہی عضوسے ہے۔ جو کسی ایک دوا کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مثلاً خوف کے حوالے سے، غصہ ، درد، غذا کی رغبت یا عدم رغبت، سر پیٹ، ناک کان وغیرہ۔ اور یقینایہ کمزورrepertorisation ہے۔
مثلاً ایک کیس میں ہمیں تین کلیدی علامات ملتی ہیں۔جن کا تعلق صرف ذہن سے ہے۔
* پہلی علامت:مریض ادھر ادھر بے مقصد دوڑتا پھرتا ہے۔اور اگر اسے روکا جائے تو بے قابو ہو جاتا ہے۔
* دوسری علامت :بار بار یہ خیال آتا ہے کہ وہ کچھ بھول رہا ہے۔ کئے ہوئے کام کوکنفرم کرنے کے لئے دوبارہ چیک کرتا ہے۔ کپڑے ہینگر پر لگائے یا نہیں۔ گیس ہیٹر آف کیا تھا یا نہیں۔ دروازے کو کنڈی لگائی تھی یا نہیں۔
* تیسری علامت :اچانک دوڑ لگانے کی خواہش ۔
ان تینوں کلیدی علامات کا تعلق صرف ایک ہی عضو یعنی ذہن سے ہے۔ ان کے سہارے آےؤڈیم کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
دوسری مثال معدہ (stomach ) کی لیتے ہیں۔
۱۔ غیر ہضم ہونے والی اشیاء کی رغبت۔
۲۔ کچے چاول بہت پسند ہیں۔
۳۔ بھوک لگتی ہے لیکن کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا ۔
تینوں علامات باہم مل کرایلومینا کا کیس مضبوط بناتی ہیں۔
تیسری مثال Urinary symptoms
۱۔ پیشاب کیلئے زور لگانا پڑے
۲۔ سیون (perineum ) میں گولہ بننے کا احساس۔
۳۔ پاؤں پھیلا کر اور آگے جھک کر کھڑا ہونے پر ہی پیشاب جاری ہو سکے۔
تینوں علامات کا تعلق نظام بول سے ہے اورچیما فیلا دوا ہے۔
۱۳۔ TWO KEYNOTE
ایسے کیس کمزور ترین ہوتے ہیں۔ اور ایسے نسخہ دوا کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہی بات واحد کلیدی علامت کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر مریض خوش قسمت ہے، ڈاکٹر تجربہ کار اورکلیدی علامت زور دار ہے تو اچھے نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔مثلاً کھانسی کے کیس میں مریض اگر سر یا پاؤں کو ننگا کرتا ہے تو کھانسی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔چونکہ اس کلیدی علامت کو محض سلیشیا کوالیفائی کرتی ہے لہذا یہ کیس آسان ہے۔لیکن اگر جسم کا کوئی حصہ ننگا ہونے پر کھانسی چھڑ جائے تو اس علامت پر ایک سے زیادہ دوائیں فٹ بیٹھتی ہیں۔مثلاً ہیپر سلفر،رسٹاکس، ریومکس،کالی بائی کرومیکم وغیرہ۔

۱۴۔ COMBINATION REMEDIES
اسے ایک سے زیادہ دواؤں کو ملا کر تجویز کرنا نہ سمجھا جائے۔Bill Gray(امریکن ہومیوپیتھ) نے اسے Synthetic prescription کا نام دیا ہے۔ یہ ایسی صور ت حال ہے جہاں مجموعہ علامات آپ کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاںآپ قدرتی طور پر مرکب دواؤں میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کلکیریا سلف، فیرم فاس، آرسنک آیوڈائڈ چائنا آرس وغیرہ۔
اس موقع پر ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اگر مذکورہ نوعیت کی دوا اپنی علامات اورکیس ٹیکنگ کے اعتبار سے نکھر کر سامنے آئے تو پھر تو کوئی مشکل نہیں ،کوئی بحث نہیں ہے ۔ لیکن یہاں جس پہلو پر بات ہو رہی ہے اس کے مطابق آپ ایک ایسی کیفیت میں پھنس جا تے ہیں۔ جہاں آپ کو کچھ اہم علامات نیٹرم میور اور کچھ اہم علامات فاسفورس کی ملتی ہیں اور یوں آپ کے لئے نیٹرم میور اور فاسفورس میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے وہاں آپ نیٹرم فاس دے سکتے ہیں اور جہاں چائنا اورآرسنکم میں تفریق مشکل نظر آتی ہے وہاں چائناآرسنکم دے سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے بھی ایک شرط ہے۔ایسے انتخاب کے لئے آپ کے پاس دونوں دواؤں کی کم از کم ایک ایک اہم علامت اورCombination remedy کی ایک کلیدی علامت کا ہونالازمی ہے۔

۱۵۔ NOSODES
نوسوڈز کے استعمال کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔نوسوڈز کوعادتاً یابطورروٹین ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں صرف اس صورت میں استعمال کرنا چاہیے جب آپ کے پاس کوئی اورمتبادل راستہ نہ رہے۔ جب آپ ہر طرف سے مایوس ہو چکے ہوں۔ جب آپ اپنی ترکش کے سارے تیر استعمال کر چکے ہوں۔ڈاکٹر بورلینڈ نے نوسوڈز پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب تک نوسوڈ کی صاف اور واضح علامات نہ ملیں نوسوڈ کا استعمال نہ کیا جائے۔نوسوڈز دوران علاج رستے کی رکاوٹ دور کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس نوعیت کا نوسوڈ استعمال کیا جا رہا ہے مریض میں ویسا میازمی پس منظر ہونا ضروری ہے۔مثلاً کسی مریض کے خاندان میں ٹی بی کی ہسٹری ملتی ہے اور اگر مریض میں بھی چند علامات اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تو بہتر لیکن اگر مریض میں ایک بھی علامت نہیں ملتی تو گمان غالب ہے ٹیوبر کو لینم کام نہ کر سکے۔مثلاً مریض کو اکثر نزلہ زکام ہو جاتا ہے۔ گھومنے پھرنے کا رسیا ہے، متلون مزاج ہے،پالتو جانور پالنے کا بہت شوق ہے یا ان سے الرجی ہے۔ وغیرہ غیرہ۔ ایسی علامات ٹیوبرکولینم کے استعمال کو حق بجانب کرنے کے لئے کافی ہیں۔
مثلاً ایک بچہ جسے اکثر نزلہ زکام کی شکائت رہتی ہے، جس کی نشوونما رک گئی ہے۔ بالمثل دوا کچھ عرصہ کام کرتی ہے اور مرض عود کر آتا ہے۔ ایسے کیسوں میں ٹیوبر کا استعمال جائز ہے
۱۶۔ ORGANOPATHIC REMEDIES
(عضویاتی دوائیں)
عضویاتی دواؤں کے استعمال کے سب سے بڑے وکیل ڈاکٹر برنٹ (Burnett) ہیں۔کچھ دوائیں ایسی ہوتی ہیں جن کی Elective affinity یعنی حلقہ اثر جسم کے مخصوص اعضاء پر ہوتا ہے۔ بعض دفعہ جسم کے کسی عضو کوجیسے جگر،گردے،endocrine glands وغیرہ اگر وہ سست رو ہے توفعال کرنا پڑتا ہے۔اور اگراس کے عمل میں غیر معمولی تیزیہے تو اسے نارمل حالت پر لانا پڑتا ہے۔ اور عام طور پر اس مقصد کے لئے دوائیں نچلی پوٹنسی میں استعمال کی جاتی ہیں۔تاہم ایسی پریکٹس ہانیمن کے باضابطہ اصولوں کے تحت نہیں آتی۔ لیکن جیسے کہا جاتا ہے۔
There is no rule without exceptions.
ایسا کرنا اکثر One sided cases میں ضروری ہو جاتاہے۔ جب کوئی اورمتبادل نہ ہو۔ اس کے باوجودعضویاتی دوا کا انتخاب کرنے سے پہلے ڈاکٹر کو چاہے کہ وہ اس کی تائید میں میسر علامات پر دھیان کرلے۔

Posted in: Uncategorized
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.