showcase demo picture

میرا ایک شفایاب کیس پیچیدہ علامات ! Part-1 ڈاکٹر بنارس خان

ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ
0092-301-5533966
ڈیر ہومیوپتھس اور سٹوڈنٹس: بہت عرصہ سے فیس بک فرینڈز کا اصرار تھا کہ میں اپنے کیس ریکارڈز Share کروں۔آپ کی فرمائش کے مدِ نظر نمونے کے طور پر ایک کیس آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
کیس بہت طویل ہے لہذا قسط وار پیش ہو گا۔آپ سے درخواست ہے کہ میرے ساتھ رہئیے گا۔
یہ کیس اکتوبر کے شروع میںیہ کیس میرے پاس آیا اور مجھے اس مریض کی کیس ٹیکنگ میں دو گھنٹے اور تیس منٹ لگے ۔آپ سے گزارش ہے کہ اس کیس پر تبصرہ کیجئے،آیا اسے مختصر وقت میں دیکھا جا سکتا تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو کیسے؟
اور ان ساتھیوں کے لیے لمحہ فکریہ جو روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مریض دیکھتے ہیں اور چند منٹوں یا اس سے بھی کم وقت میں مزمن کیس دیکھ کر دوا تجویزکر دیتے ہیں۔
(مریض،جنہیں ہم کیضی صاحب کہیں گے)۔کیضی صاحب خود ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں۔آپ کے تین بچے ہیں۔مریض کا ا نٹرویو تو روز مرہ زبان میں تھا،البتہ میں نے اسے تھوڑاردوبدل کر کے اورعلامات کو ترتیب دے کر بیان کر دیا ہے۔
آئیے،آپ بھی کیس ٹیکنگ میں شامل ہو جائیے۔
ڈاکٹر صاحب میں خود بھی ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہوں،میں نے B.H.M.S. کیا ہوا ہے۔پریکٹس کرتا ہوں۔میری نظر میں میرے شہر میں کوئی اچھا ہومیو پیتھ نہیں ہے۔میں دو سال سے ہومیوپیتھک میگزین میںآپ کے مضمون پڑھ رہا ہوں اور آپ کے پاس آنے کا سوچ رہا تھا۔میرا مسئلہ بہت گھمبیر اور پیچیدہ ہے۔مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کہاں سے شروع کروں۔میں کئی سال سے اپنا علاج خود کرتا چلا آرہا ہوں۔بیشمار دوائیں استعمال کر چکا ہوں خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔
میں بہت وہمی اور شکی مزاج بندہ ہوں۔مجھے اپنی بیوی پر بھی شک رہتا ہے اور وہ مجھ پر شک کرتی ہے۔
مجھے دوسروں پرتنقیدکرنا بہت اچھا لگتا ہے۔اس کے بغیر رہ نہیں سکتا۔دوسروں کی مدد کردیتا ہوں لیکن Security کا خیال بھی رکھتا ہوں۔اپنے اپ کو غیر محفوظ خیال کرتا ہوں۔ہر وقت یہ خوف ذہن پر سوار رہتا ہے کہ کچھ ہو جائے گا۔
گھر میں ہم سب بہن بھائی انتہا کے سڑیل مزاج ہیں۔کوئی کسی کی بات کو برداست نہیں کر تا۔ذرا ذرا سی بات پر برتن کھڑکنے لگتے ہیں۔
اونچائی کا شدید خوف ۔Insecurity کا خوف ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی خوف نہیں۔
اگر کوئی میری Insult کر دے تو غصہ تو آتاہے۔اگرچہ بنیادی حقوق کے لئے Fight نہیں کر سکتالیکن انتقام لینے کی خواہش ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔میری جتنی Insult ابو نے کی اور کسی نے نہیں کی اور یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہوتی۔ابو نے کبھی مجھ پر ا عتماد نہیں کیا۔ایک بار بڑی عید پر قربانی کے بکرے خریدنے تھے،والد صاحب نے میرے ایک دوست کی ڈیوٹی لگا دی جو سبزی فروش تھا۔میں نے گلہ کیا، کہنے لگے اسے تم سے زیادہ تجربہ ہے۔مدت بعد جب والد صاحب (جو خود بھی ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں)کو احساس ہوا تو انہوں نے مجھ سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔پلوں کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔
میرے اندازے اکثر غلط ثابت ہوتے ہیں۔Judgment بہت غلط ہوتی ہے۔کنفیوژن کا شکار رہتا ہوں۔
باتیں Share کرتا ہوں لیکن ہر ایک سے نہیں۔حلقہ احباب بھی محدود ہیں۔ ہر ایک کو دوست نہیں بناتا۔
اگر وعدہ کر لوں تو نبھانے کی بہت کوشش کرتا ہوں۔ خیانت اور بے ایمانی نہیں کرتا۔ایک بار بچپن میں ابو کے پرس سے ہزار روپیہ چرا لیا،والدین کو یقین تھا کہ گھر میں میرے بغیر کوئی اور نہیں جس سے چوری کی توقع کی جا سکتی ہو۔ لیکن بار بار کی باز پرس کے باوجود نہیں مانا۔ اس بات پر بڑی مدت تک ضمیر ملامت کرتا رہا۔

ہر کام اپنی عمر سے پہلے شروع کیا۔
سگریٹ گیارہ سال کی عمر میں پینے شروع کیئے۔ ابو کی سگریٹ چرا کر پیتا تھا۔
Masturbation اور سگریٹ اوائل عمری میں شروع کئے۔
والد نے ایک سال پہلے اگلی کلاس میں داخل کرا دیا جس وجہ سے پڑھائی میں کمزور رہا اوریوں FSc میں تین سال لگا دیئے۔
بچوں کو اپنےPast events یاد ہوتے ہیں مجھے بہت کم یاد ہیں۔
تیس سال کا ہونے کے باوجود ابھی تک اپنے آپ کو Immature محسوس کرتا ہوں۔Apprehension بھی کمزور ہے۔بات بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔والد صاحب نے 16سال کی عمر میںMasturbationکرتے ہوئے پکڑلیا۔صبح کی نماز کے بعدمیں بستر میں لیٹا کر رہا تھا کہ والد صاحب نے کھڑکی سے دیکھ لیا لیکن سزا نہیں دی بس سمجھاتے رہے۔
غصے میں ہاتھ پاؤں کانپتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔تاہم اب ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
ایک بار میں اور میرا دوست ابو کے ساتھ گاڑی میں سوار تھے۔نہر عبور کرتے ہوئے گاڑی پل پر پھنس گئی۔ابو نے مجھے سٹیرنگ پر بٹھانے کی بجائے میرے دوست کو بٹھادیاحالانکہ میں بھی گاڑی ڈرائیو کر لیتا ہوں۔ابو نے مجھ پر اعتماد نہیں کیااور یہ بات اب تک مجھے دکھ دیتی ہے۔بعد میں شکوہ کرنے پر ابو نے جواب دیا چونکہ تمھارے دوست کا وزن کم تھا اس لیے اسے بٹھا کر ہم نے گاڑی کو دھکا دیا۔لیکن میں نے ان کی دلیل سے اتفاق نہیں کیا کہ چند کلو گرام وزن کے فرق سے کیا ہوجاتا ہے۔
اول تو کسی سے تعلق بناتا نہیں اگر بنا لوں تو اس پر فنا ہو جاتا ہوں۔لیکن اگر وہ مجھ سے جوابی وفا نہ کرے تو ہمیشہ کے لئے ذہن سے ختم کر دیتا ہوں۔پھر پلٹ کر نہیں دیکھتا۔یادداشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ خصوصاََRecent memory
ایک کام کر لیتا ہوں مگر یقین نہیں ہوتا کہ کیا ہے یا نہیں۔ دروازے کو کنڈی لگائی ہے کہ نہیں بار بار چیک کرتا ہوں۔
طبیعت میں جلد بازی بہت ہے ۔ حسد بہت ہے۔ گلے شکوے بہت کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں بار بار دوائیں بدلنے اور متاواتر لینے سے میری صحت کو بہت نقصان پہنچا۔
والد کی طرف سے احساس محرومی ہے۔ بچپن میں تکبر بہت تھا۔ بچپن میں لاڈ پیار بہت ملا۔
کسی ناخوشگوار واقعہ پر مدتوں کڑھتا رہتا ہوں۔اگر کوئی میری بات سے متفق نہ ہو تو غصہ بہت آتا ہے۔
ناانصافی برداشت نہیں کر سکتا۔پرلے دجے کا نافرمان ہوں۔ برا کام کر کے ضمیر ملامت کرتا رہتاہے۔گھر والے خود غرض سمجھتے ہیں۔آسانی سے غلطی تسلیم نہیں کرتا۔اختلاف برائے اختلاف۔چونکہ علاقہ میں میرے بارے میں مشہور ہے کہ یونیورسٹی سے پڑھ کر آیا ہوں لہذامیں قابل ڈاکڑہوں گا۔لہذامیری کوشش ہوتی ہے کہ لوگو ں کے توقعات پر پورا اتروں۔کیس پر بہت محنت کرتا ہوں۔ پریکٹس کے شروع میں والد صاحب کے ساتھ ان کے کلینک پر کام کرتا تھا۔والد صاحب کا چونکہ اپنا کمپاؤنڈپریکٹس کا سٹائل تھا۔میں سنگل ریمیڈی اور کیس ٹیکنگ کا حامی تھا لہذا ہمارے اختلافات بڑھتے گئے۔بالآخروالد صاحب نے ایک دن پچیس ہزار روپے دے کر الگ کر دیا اور کہا ، برخوردار یہ لو پیسے اور کل سے اپناکلینک الگ کر لو۔سو اس دن سے اپنا الگ کلینک چلا رہا ہوں،اگرچہ مشکلات بہت ہیں لیکن میںsurrenderنہیں کرنا چاہتا۔
جلدی بے تکلف نہیں ہوتا، اگر ہو جاؤں توبولتا بہت ہوں۔موضوع تبدیل کرتا رہتا ہوں۔
دو سال پہلے چوتھے رمضان کو ایسا لگا جیسے الٹی آ جائے گی۔ دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ ٹانگوں سے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے جان نکل گئی ہے۔جیسے موت میرے بہت قریب ہے۔Walk کرنے سے مزید زیادہ ہوتا گیا۔ شاید Over eating کی تھی یاشاید چائے سے پرابلم ہوتی تھی۔ پراٹھا ،دھی، سالن، چائے وغیرہ ناموافق۔ پراٹھا اور چائے چھوڑ دی تو آرام آگیا۔
منہ سے رالیں اور متلی اگر اکٹھی ہو جائیں توpalpitationہوتی ہے لیکن ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔
گیس بہت بنتی ہے اور نہایت بدبودار۔گیس رک جانے سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
Vomiting کا بہت خوف رہتا ہے کیونکہ مجھے اتنی زور سے Vomit ہوتی ہے کہ گلا اندر سے زخمی ہو جاتا ہے، Tonsilitis ہو جاتے ہیں۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.