showcase demo picture

میرے مہمان


میرے مہمان
پارٹ۔22

ہمیں مزاجی دواؤں کا علم حاصل کرنا ہو گا۔ڈاکٹر Berjeau J.P.H نے اپنی کتاب Treatment Syphilis,Gonorrhoea میں لکھا ہے۔ بچوں میں مشت زنی کا میلان سورا میازم کے سبب ہوتا ہے۔ اور اگر مریض کی علامات سے گائیڈ لائن نہ ملے تو اس کی ذاتی اور فیملی ہسٹری پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ نہ صرف مشت زنی کے میلان بلکہ جریان میں بھی سلفرہائی پوٹنسی میں اچھا کام کرے گی۔ اور اگر مکمل علاج نہ بھی ہوا توبہرحال صورت حال بہتر بنا دے گی۔
آپ میری اس بات سے متفق ہوں گے کہ ہماری بعض دوائیں نہ صرف ذات اور شخصیت کی شناخت رکھتی ہیں بلکہ ان کا ہمارے خاندان،ہمارے رسم ورواج،رہن سہن اور ماحول پر بھی اثر ہوتا ہے۔ وہ کیسے؟ آئیے ہم کچھ دواؤں کا مزاجی اعتبار سے مطالعہ کرتے ہیں۔
میں آپ کو ایک خاندان کی مثا ل دیتا ہوں۔ ایسے گھرانے جن کے ہاں شدت پسندی ہو،برداشت کی کمی ہو، جہاں والدین بچوں کو شیر کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ سخت گیر باپ کے گھر میں قدم رکھتے ہی مکینوں کو سانپ سونگھ جاتا ہو۔ ٹی وی، ریڈیو، کمپیوٹر یا ایسی کسی سوشل ایکٹی وٹی پر سختی سے پابندی ہو۔ ایسا گھٹن زدہ ماحول ہو کہ بچے کھل کر سانس بھی نہ لے سکیں۔ جہاں بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوو نما جمود کا شکار ہو جاتی ہو۔ جہاں والد صاحب اولاد کی ہر دلیل پر ”باپ میں ہوں یا تم“ کا کلہاڑا چلا دیتے ہوں۔ جہاں کسی بات پر قہقہہ مار کر ہنسنا بے ادبی اور گستاخی سمجھا جاتا ہو۔ایسا گھر جہاں صرف حکم کی حکمرانی چلتی ہو۔ بات بات پر بچوں کو نالائق، احمق، الو اور گدھے جیسے خطابات سے نوازا جاتا ہو تو خود اعتمادی سے محروم ایسے گھروں میں کس طرح کے بچے پروان چڑھتے ہیں؟
اناکارڈیم، سٹیفی، کارسی نوسن، اگنیشیا جیسے بچے۔ خود اعتمادی سے محروم ڈرے سہمے بچے۔اور ایسے جابر، اصول پرست گھرانے کون سے ہوتے ہیں؟ اورم میٹ، کالی کارب، لائیکوپوڈیم، نکس وامیکا وغیرہ۔
اب اناکارڈیم کی مثال لیں۔
یہ بچے خود اعتمادی کے فقدان کے سبب امتحان کے دنوں یا انٹرویو کے وقت سخت کنفیوژن کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں اگر کلاس میں کھڑا کر کے اچانک ان کا نام پوچھا جائے تو گڑبڑا جاتے ہیں۔ اپنا نام بھی نہیں بتا سکتے۔اس علامت پر اناکارڈیم اپنی مثال آپ ہے۔
ایسے بچوں میں ایک عجیب رد عمل ابھر تا ہے۔ ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ کھاکے یہ اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھتے ہیں۔ ان کی شخصیت اخلاقیات اور Moral values سے عاری ہو جاتی ہے۔ یہ بچے تشدد پسندی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
مثلاً آ پ نے گلی محلے میں ایسے آوارہ بچوں کو دیکھا ہو گا،کسی گھر کی کال بیل دبا کر بھاگ گئے،کسی گھرکی کھڑکی پر پتھر مار کر شیشہ توڑ دیا یا پارک میں کھڑی کسی گاڑی کے پہیے سے ہوا نکال دی۔ راہ چلتے بوڑھے لوگوں کے پاؤں میں پٹاخہ چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ یہ انا کارڈیم ہوتے ہیں۔بازاری اور اخلاق باختہ زبان استعمال کرتے ہیں۔
نکس وامیکا، اناکارڈیم، ہیپرسلفراور لائیکوپوڈیم کسی کی بے عزتی کرنے پر آ جائیں تو شیطان بھی ان سے پناہ مانگتا ہے۔گندی بازاری زبان استعمال کرنے کے حوالے سے ہائیوسائمس اور وریٹرم البم بھی کسی سے کم نہیں۔
ایک بار گلی کی نکڑ پر چند لڑکے کھڑے باتیں کر رہے تھے۔پاس سے مرسیڈیز کار گزری،ایک لڑکے نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، دیکھو سالا کیسے گزر کر گیا ہے، جی چاہتا ہے ایک جھانپڑ مار کر گاڑی کی چابیاں چھین لوں (مغلظات)۔ایسے ہوتے ہیں اناکارڈیم۔احساسِ محرومی، فرسٹریشن کے شکار اور خوداعتمادی سے محروم بچے۔
اناکارڈیم بچے میں والدین کی جھڑکیں اور گالیاں سن کر اور مار کھا کھا کر ان کے خلاف انتقامی جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔اور یہ بچہ اکثر کہتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر والدین سے اپنی سزا کا بدلہ لے گا۔اپنے سے کمزور اور چھوٹے بہن بھائیوں پر حکم چلانے اور انہیں مارنے پیٹنے کے حوالے سے یہ لائیکوپوڈیم اورٹیوبرکلونیم کے قریب ہے۔فرض کریں گھر میں اس کی کسی بہن بھائی سے لڑائی ہو گئی اور یہ والدین کی موجودگی میں خاطر خواہ بدلہ نہ لے سکا۔لیکن جس دن والدین گھر پرنہ ہوں گے یہ اس دن ان سے بدلہ لینے کی کوشش کرے گا۔والدین حیران ہوتے ہیں کہ اتنی چھوٹی عمر میں بچے نے اتنی گندی زبان کہاں سے سیکھ لی۔ نائیٹرک ایسڈ کی طرح انتقامی دوا ہے۔
یہ لڑکا جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو والدین کے سامنے سرکشی پر اتر آتا ہے۔اور سیانے والدین اس سے کنی کترانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ ہائیوسائمس اور اناکارڈیم کا مزاج بہت ملتا جلتا ہے لیکن اناکارڈیم میں سنگدلی جب کے ہائیوسائمس میں شہوانی پہلو نمایاں ہوتا ہے۔دوران انٹرویو ہائیوسائمس بچے بہت کھل جاتے ہیں جب کہ اناکارڈیم بہت کچھ چھپا جاتا ہے۔اکثر سوالات کے جوابات محض ہاں یا نہ میں دیتا ہے یا سر کی جنبش سے۔اناکارڈیم شخصیت کی ایک اور نمایاں صفت یہ ہے کہ یہ سنجیدہ باتوں پہ مسکرا پڑتا ہے اور ہنسی مذاق جیسے موضوع پر سنجیدگی کا مظاہرہ کر دیتا ہے۔رابن مرفی کی ریپرٹری میں ہائیوسائمس اوراناکارڈیم 853 علامات میں مشترک ہیں۔
آج کل برسات کا موسم آنے والا ہے، مینڈک اکثر نظر آتے ہیں۔ ان دنوں کسی جوہڑ کے کنارے مینڈک پکڑ کر اس کے اوپر بھاری پتھر رکھ کر اسے بتدریج مرتے ہوئے دیکھنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ہمارے محلے میں ایک لڑکا تھا جو سارا دن کتے بلیوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر انہیں پکڑ لیتا تھا اور انہیں رسی سے باندھ کر پتھر مار مار کر لہو لہان کر دیتا اور مزے لیتا رہتا۔ ان لوگوں کے مزاج میں عجیب طرح کی بے رحمی اور سفاکی آ جاتی ہے۔
آپ نے سنا اور پڑھا ہوگا کہ ٹارچر سیلوں میں قیدیوں اور مجرموں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ اناکارڈیم اس پوسٹ کے لئے بہت موزوں ہوتا ہے۔ اس کا دل ذرا نہیں پسیجتا۔ملزم یا مجرم جتنا زیادہ چیختا چلاتا اور رحم کی اپیلیں کرتا ہے یہ اتنا ENJOY کرتا ہے۔ایسا شخص چائے کا کپ پینے کے دوران بڑی آسانی سے مجرم کی انگلیوں کے ناخن اتار پھینکتاہے۔یہ سگریٹ بھی پیتا جائے گا اوراسی سگریٹ سے مجرم(یا ملزم) کی جلد بھی ڈستا رہے گا۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.