showcase demo picture

میرے مہمان


میرے مہمان
25پارٹ۔
اب ہم ایک اور کمزور شخصیت پر بات کرتے ہیں۔اور وہ ہے کارسی نوسن۔ اس مریض کی ماضی کی ہسٹری میں شدید ذہنی اور جذباتی دباؤملتا ہے۔
جب پاتے نہیں راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
اگر آپ کارسی نوسن کے ESSENCE پر غور کریں تو آپ کو اونٹ اور اس کے مالک کی کہانی یاد آ جائے گی۔اونٹ نے مالک سے خیمہ میں داخل ہونے کے لئے صرف سر اندر ڈالنے کی اجازت مانگی۔ اور بتدریج صبح ہونے سے پہلے اونٹ اندر تھا اور شتربان باہر۔کارسی نوسن کا مرکزی خیال بھی یہی ہے۔کینسر کا ٹیومر بھی بن بلائے مہمان کی طرح مریض کے جسم پر پلتا اور بڑھتا رہتاہے اور جسم اتنی استعداد بھی نہیں رکھتا کہ اس کے خلاف احتجاج کر سکے۔اسے پھلتا پھولتا اور جسم پر قبضہ کرتے بے بسی سے دیکھتا رہتا ہے۔
میری دنیا لٹ رہی تھی اور میں خاموش تھا
ٹکڑے ٹکڑے دل کے چنتا کس کو اتنا ہوش تھا
کارسی نوسن کو سمجھنا آسان نہیں۔ یہ کبھی نیٹرم میور، کبھی سٹیفی، کبھی فاسفورس، کبھی پلسٹیلااور کبھی ٹیوبر کلونیم کی طرح نظر آتی ہے۔کارسی نوسن کا تصور کریں تو ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو نرم و نازک، دبی دبی، رومانٹک، جذباتی، حساس، رحمدل، فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والی اور جانوروں سے پیار کرنے والی ہو۔
جہاں تک کارسی نوسن شخصیت کی بات ہے، ایسے گھرانوں میں اگر آپ غور کریں تو ٹی بی، ذیابطیس،کینسر اور انیمیا کی ہسٹری ملے گی۔ایسی فیملی جہاں منگولین بچے پیدا ہوتے ہوں۔جہاں تھیلسیمیا کی ہسٹری ملے۔ ان بچوں کو سٹیفی اور اناکارڈیم کی مانند ایسا ماحول ملتا ہے جہاں ذرا سی بات پر ڈانٹ ڈپٹ اور سزا ملنے کا خوف پایا جاتا ہو۔ یا ایسے بچے جو عصمت دری کا شکار ہو کر خود اعتمادی کھو بیٹھتے ہیں اور ان کے لاشعور میں خوف مستقل ڈیرے ڈال لیتا ہے۔ یہ بچے ہمہ وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر ذرا سی غلطی کی تو بے عزتی ہو جائے گی اور سزا ملے گی۔یہ سزا برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو پاتے اور ایک دم سے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ نازک نرم مزاج اور آرٹسٹک ذہن کے مالک۔ٹیوبر اور میڈورینم کی مانند کم عمری میں مشت زنی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہیپر سلفر کی نازک مزاجی کے حوالے سے کہا جاتا ہے
“They have a chip on their shouloders”
جب کہ کارسی نوسن کے احساس ذمہ داری کے بارے میں کہا جاتا ہے
“Old head on young shoulders”
یہ بچے نہایت چھوٹی عمر میں بڑوں جیسی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لئے زندگی گذارنا اور روزمرہ مسائل سے نبردآزما ہونا زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ہمہ وقت ٹینشن کا شکار، یہ لوگ Relax نہیں ہوسکتے۔ہر وقت کام میں مشغول رہنا جیسے ان کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہو۔ احساس ذمہ داری اور کام کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ نیٹرم میور کی مانند غم و غصہ کی حالت میں دم دلاسہ قبول نہیں کرتے۔
جے ایچ کلارک کے مطابق ایسے گھرانے جس میں ذہنی مریض پائے جائیں وہاں بھی یہ دوا ظاہر ہوتی ہے ایسے مریض جو ہمہ وقت تھکے ماندے رہتے ہوں۔ کارسی نوسن شخصیت خوداعتمادی کی کمی اور احساسِ محرومی کا شکار ہوتی ہے۔ کارسی نوسن کو سمجھنے کے لئے آپ ایک ایسے ملک کی مثال لیں جس کی ساری سرحدیں غیر محفوظ ہوں۔جو بیرونی حملہ آوروں کا دفاع کرنے کے قابل نہ ہو۔بیرونی فوجیں ملک کے اند داخل ہو جائیں اور جو ملے لوٹ مار کر لیں دشمن کی فوجیں اتنی کامیابی کے بعد ملک کے دوسرے شہروں پر قبضہ (Metastasis) کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ چونکہ ملک اپنے دفاع کے قابل نہیں ہوتا لہذا ایسی صورت میں بیرونی امداد کی درخواست کرتا ہے(جیسے کینسر کے علاج میں کیموتھراپی،ریڈی ایشن، سرجری)تاہم نتائج کچھ حوصلہ افزا نہیں نکلتے۔اور کینسر جسم انسانی میں یہ تباہی خلیے کی سطح تک کرتا ہے۔اور یوں سارے جسم میں انارکی پھیل جاتی ہے۔فساد برپا ہو جاتا ہے۔
جب مریض کو کارسی نوسن دی جاتی ہے تو جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطح پر اس بیرونی حملہ آور کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک ابھرتی ہے۔ مریض کی قوت ِمدافعت اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔دفاعی نظام اپنے اچھے برے کی تمیز کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور یوں اپنی بکھری ہوئی توانائی کو مرکوز کر کے دشمن کے خلاف سینہ سپر ہو جاتا ہے اور شفایابی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔اسی سفر کے دوران مریض کا(فرض کریں)برسوں دبا ہوا انفلوئنزا یا ملیریا وغیرہ واپس آ جاتا ہے،بخار چڑھ جاتا ہے جو کہ ایک اچھی علامت سمجھی جاتی ہے۔ایسے مریضوں کو رات نیند کے دوران ڈراونے خواب آتے ہیں اوندھے ہو کر سوتے ہیں۔نیند اتنی حساس کہ ذرا سا کھٹکا ان کو جگادینے کو کافی ہے۔
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے سو گیا ہے
دودھ، چاکلیٹ، مرغن اورچربیلی غذائیں زیادہ پسند کرتے ہیں۔عجیب بات ہے کبھی انہیں ایک وقت میں ایک غذا پسند ہوتی ہے اور کچھ عرصہ بعد ہی وہی ناپسند ہو جاتی ہے۔کھانے پینے اور گانے بجانے میں ان کی پسند ذرا ہٹ کر ہوتی ہے۔مثلاً کالج کے زمانے میں میرا ایک دوست تھا، چائے میں کالی مرچیں ڈال کر پیتا تھا۔مرزا صاحب جن کا ذکر میں کئی بار کر چکا ہوں پیپسی میں چینی ڈال کر پیتے تھے۔کھانے میں نئی سے نئی ڈش پسند کرنے کے حوالے سے سلفر بھی معروف دوا ہے۔کھانے میں چاہے انہیں چمڑا پکا کر دے دیں لیکن یہ باور کرا دیں کہ نئی ڈش آئی ہے، مزے سے کھا جائیں گے۔ کارسی نوسن، ٹیرنٹولا، پلاٹینا، سٹرامونیم اور بیلا ڈونا ایسی شخصیات ہیں جنہیں رقص و سرود کی محفل پسند ہے۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.