showcase demo picture

(نیٹرم میور کا کیس) Part-2


(نیٹرم میور کا کیس)
Part-2
ڈاکٹر بنار س خان اعوان ، واہ کینٹ

دوسری نشست۔19 مارچ،2000 ؁ء۔
دوا کے اگلے روزجسم میں شدید بے آرامی اور بے چینی رہی۔شام کو گلے کی درد بڑھ گئی جو دوسرے دن ختم ہو گئی۔(نیند کی دوا لینے کے باوجود) ساری رات نیند نہیں آئی( صرف پہلی رات)۔ ہاتھ پاؤں بار بار ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔میری حرکات و سکنات میرے کنٹرول میں نہیں ہیں۔جی کرتا ہے خوب زور زور سے روؤں( لیکن رویا نہیں)۔
چند روز پہلے پیٹ میں شدید مروڑ اور گڑگڑاہٹ ہوتی رہی۔گیسیں بہت تنگ کرنے لگی ہیں۔ میوزک سننے کو جی کرتا ہے۔ پانچ دن کے لئے پلاسبو دی گئی۔
قارئین کرام!
آپ نوٹ کریں کہ بیماری جب ذھنی سطح سے نیچے جسمانی سطح پر اترتی ہے تو مختلف اعضاء سے اٹھکیلیاں کرتی ہے۔ (لیکن انہیں نقصان نہیں پہنچاتی) یعنی ہیرنگ لا کے مطابق اس کا واپسی کا سفر شروع ہواہے۔

تیسری نشست24مارچ 2000 ؁ء۔
آج رات خوب سویا ( نیند کی دوا لینی چھوڑ دی ہے)
سانس کی نالی میں رات کے وقت جلن ہوتی ہے۔
رات کو ڈر زیادہ لگتا ہے۔
بے وقت کھانے کو جی کرتا ہے۔
اب کھانوں کا ذائقہ محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے۔
دو دن پہلے بخار ہوا، چند گھنٹوں بعد خود بخود غائب ہو گیا۔
جی چاہتا ہے زور زور سے چیخوں چلاؤں۔
غصہ زیادہ آنا شروع ہوا ہے۔
اس ہفتے دوبارہ قبض ہونا شروع ہو گئی ہے۔
کھلی فضاء میں گھومنا چاہتا ہوں۔
رات سونے سے پہلے دماغ میں سائیں سائیں ہوتی ہے۔
خوشگوار خواب آنا شروع ہو گئے ہیں۔
کزن کی محبت دوبارہ سے ذہن میں جاگ پڑی ہے۔

قارئین کرام!
آپ نوٹ کریں کہ نیٹرم میور بدستور کام کر رہی ہے۔ کسی ایک دوا کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ متفرق قسم کی علامات ہیں جس کا ایک مطلب ہے کہ وائٹل فورس آپ سے کسی بیرونی امداد کا تقاضا نہیں کر رہی۔
دوسری بات جو نوٹ کرنے والی ہے وہ یہ کہ مثبت تبدیلیاں اشارہ کر رہی ہیں کہ بیماری کا رخ اندر سے باہر کو اور زیادہ اہم اعضاء سے کم اہم اعضاء کی طرف ہے ۔غصہ کا زیادہ آنا بھی اس موقع پر مثبت اقدام ہے کیونکہ ڈپریشن کا تعلق سفلس جبکہ غصہ کا تعلق جس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے اس کا تعلق سائیکوسس میازم ہے۔لہذا بیماری سفلس سے سائیکوسس کی جانب رواں دواں ہے۔ جو کہ مثبت پیش رفت ہے۔
پلاسبو اور دس روز بعد آنے کا کہا۔

15 اپریل 2000 ؁ء۔
منہ میں میٹھا Saliva بن رہا ہے۔
سوائے کزن کے اور کچھ یاد نہیں آتا۔
اندر معدہ میں بہت گرمائش ہے ۔جی کرتا ہے ٹھنڈی یخ چیز اندر ڈالوں۔
کبھی قبض اور کبھی اسہال ہوتے ہیں۔
دن میں کئی بار بخار کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
اب چوٹیں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔ پہلے محسوس نہیں ہوتی تھیں۔
جلد پر جلن ہوتی ہے ۔جیسے کسی نے مرچیں لگا دی ہوں۔
6 سال بعد پہلی مرتبہ رویا ہوں۔بہت زیادہ رویا ہوں۔سارے گھر والے پریشان ہو گئے۔
والدہ کے سامنے رویا ہوں ۔میں نے والدہ سے اپنی کزن کی محبت کا اعتراف کیا اور اسے خط لکھنے کا بھی اعتراف کیا۔
اس دوران میرے ناک سے بہت ریشہ نکلا۔
ناک سے گرم ہوا آتی ہے۔ جیسے اندر گرمی ہو گئی ہو۔
میری زبان سے کزن کا ذکر سن کر بھائی نے مجھے برا بھلا کہا اور مجھ سے لڑنے کی کوشش کی لیکن میں نے بہت ضبط کیا اور جھگڑا نہیں کیا۔

قارئین کرام!
اس وقت کیس سائیکوسس اور سورا کے درمیان میں ہے ۔ دونوں میازم کی مشترکہ علامات سامنے آ رہی ہیں۔

2 مئی 2000 ؁ء
کھانا پینا ٹھیک ہے ۔ نیند نارمل ہے۔ اب پیاس والے خواب نہیں آتے۔ کزن کو دوبار خواب میں دیکھا ہے۔ خوف بہت آتا ہے ۔ جیسے کچھ ہونے والا ہے۔
خواب میں اکثر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گاڑی چھوٹ جائے گی۔
ناک سے اور گلے سے گاڑھا پیلا ریشہ آرہا ہے۔
پاؤں کے تلوؤں میں جلن ہوتی ہے۔پشت اور ہاتھوں میں جلن کا آرام ہے۔
اب لوگوں سے نرم لہجہ میں بات کرتا ہوں۔یہ بات میرے گاہکوں نے بھی نوٹ کی ہے۔
زندگی بہت حد تک روٹین پر آ گئی ہے۔
پشت پر پھنسیاں نکل آئی ہیں۔ چہرے کا رنگ بھی 60% صاف ہو گیا ہے۔
پاخانے میں سفید آؤں آتی ہے۔ پیاس زیادہ لگتی ہے۔
پلاسبو اور ایک ماہ بعد آنے کو کہا۔

قارئین کرام!
خواب ، جلد کی علامات اور مریض کا رویہ ظاہر کرتے ہیں کہ کیس سورا میازم میں پہنچ چکا ہے۔ اور ہیرنگ لاکے مطابق چل رہا ہے۔ کسی بھی عضو میں پتھالوجی نظر نہیں آتی۔ وائٹل فورس خوش اسلوبی سے اپنا کام کر رہی ہے۔

15 جولائی ،2000 ؁ء
کھانا پینا نارمل ہے۔
کبھی کبھار اسہال لگ جاتے ہیں۔
دکان کا کام ٹھیک چل رہا ہے۔
گھر والوں کی باتوں پر غصہ آجاتا ہے لیکن خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہوں۔
میں نے گھر والوں سے کہا کہ میں کزن اور اس کے گھر والوں سے جاکر اپنے گذشتہ رویئے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ میری بہن نے کہا تھوکے ہوئے کو چاٹو گے ،تم بہت بے غیرت ہو گئے ہو۔میں نے کہا تھوکاہوا بھی تو اپنا ہی تھا۔گھر والے میرے اس بدلتے رویہ پر حیران ہیں۔
ناک سے بلغم اب پانی کی طرح پتلااور شفاف آتا ہے ۔
صبح اٹھنے پر چھینکیں آتی ہیں ۔
پیٹ میں گیس اب بھی بنتی رہتی ہے۔
پاؤں میں جلن اب نہیں ہوتی۔
پسینے سے بدبو آتی ہے۔ والدہ بتاتی ہیں کہ بچپن میں بھی تمھارے جسم سے بدبو آتی تھی۔(ہیرنگ لا کے مطابق سب سے پہلے آنے والی علامات سب سے آخر میں غائب ہوتی ہیں)
گلا کبھی کبھار خراب ہو جاتا ہے۔
قارئین کرام!
مارچ 2000 سے شروع یہ کیس 15 جولائی کو اپنے اختتام کو پہنچا۔ اگرچہ یہ لڑکا بعد میں بھی گاہے بگاہے مجھے Visit کرتا رہتا ہے۔ تاہم بعد کی سٹوری یوں ہے کہ اس کی کزن جوابھی تک بغیر شادی کے بیٹھی ہوئی تھی۔ جب لڑکی کے والدین نے دیکھا کہ لڑکا دوبارہ اچھے روزگار پر لگ گیا ہے۔ تو دونوں خاندان اس جوڑے کو ہمیشہ کے لئے رشتہ ازدواج میں منسلک کرنے پر رضامند ہو گئے۔
آج اس کے دو بچے ہیں۔ میاں بیوی دونوں خوش ہیں۔ پچھلے ماہ یہ لڑکا(جو اب دو بچوں کا باپ ہے) اپنے لڑکے کو مجھے دکھانے آیا تومیں نے اس کاپرا نا کیس فائلوں سے نکالا۔

قارئین کرام!
دیکھیں یوں نیٹرم میور CM کی ایک خوراک دو محبت کے ماروں کو پھر سے ملانے میں کیسے کامیاب ہوئی۔یہ ہومیوپیتھی کا کمال ہے۔اگر اس بے مثال و بے نظیر سسٹم آف تھیراپیوٹکس کو عام کر دیا جائے تو یہ ہمارے سماج کو جنت نظیر بن دے۔

Posted in: Uncategorized, Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.