showcase demo picture

پیشاب کی نالی کی بندش


پیشاب کی نالی کی بندش
ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ
Urethral Stricture
Urethra پیشاب کی نالی ہے جو مثانے سے شروع ہوکر پیشاب کے آخری حصے تک آتی ہے جہاں سے پیشاب خارج ہوتا ہے۔
پیشاب کی نالی اگر اس حد تک تنگ ہو جائے کہ پیشاب کا اخراج مشکل ہو جائے اسے Urethral Stricture کہتے ہیں۔ لیڈیز کی نسبت جینٹس میں اس کی لمبائی زیادہ ہوتی ہے اور لیڈیز کی نسبت جینٹس میں اس کے تنگ ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
Urethra کے تنگ ہونے کی تشخیص
جیسے آپ کو پیشاب کی حاجت ہوئی ہے، آپ جا کہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے کہ پیشاب آئے۔ یا آپ کو پیشاب خارج کرنے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے۔
الٹرا ساؤنڈ، ایکس ریز، urethroscopy یہ سب تشخیص میں مدد دیتے ہیں۔

علامات
Urethra کے تنگ ہونے کی کیا کیا علامات ہیں؟
مریض کو پیشاب خارج کرنے میں نسبتاً زیادہ وقت لگتا ہے اور اس کو پیشاب خارج کرنے کے لئے خود سے یعنی ارادتاً بھی زور لگانا پڑتا ہے اور پیشاب کر نے کے بعد پیشاب کے قطرے گرتے ہیں اور مریض کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا مثانہ پوری طرح خالی نہیں ہوا اور پھر دوبارہ واش روم جانے کی خواہش باقی رہتی ہے اور یوں پیشاب پورا خارج نہ ہونے کی وجہ سے کچھ بلیڈر میں بچا رہتا ہے اور مزید انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ اس کی مزید علامات میں درد کے ساتھ پیشاب کا آنا، جلن کے ساتھ آنا اور پیشاب کی دھار کا ڈھیلا ہونا پایا جاتا ہے، پیشاب کی دھارایک سے زیادہ حصوں میں فوارے کی شکل کی طرح بھی باہر نکلتی ہے، پیشاب مقدار میں کم خارج ہوتا ہے۔ پیشاب کو خارج کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے، پیشاب قطرہ قطرہ گرتا ہے، کولہوں کے ایریا میں بھی درد ہو سکتی ہے، پیڑومیں درد کا ہونا، پیشاب کی رنگت میں تبدیلی، گاڑھی رنگت میں پیشاب کا آنا،عضو، تناسل کی سوجن، پیشاب کا رک جانا، پیشاب کے دوران جلن ہونا، یہ Urethra کے Stricture کی کچھ علامات ہیں۔
Urethraکے Stricture کے کیا کیا اسباب ہیں؟
مذکورہ اعضاء پر چوٹ لگ جانا، ریڈیو تھراپی کے برے اثرات بھی ہو سکتے ہیں،Sexual diseases بھی اس کے اسباب ہیں۔ جیسے گنوریا ہو گیا، جسکی وجہ سے اندر Scar tissue بن جاتا ہے۔ کسی مریض نے طویل عرصے تک کیتھیٹر کا استعمال کیا ہو۔ یہ بیماری موروثی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے بچے دیکھے گئے ہیں جن کے اندرموروثی Urethral Stricture پایا گیا ہے اور شروع میں تو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ لیکن وقت کے ساتھ جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو پھر محسوس ہوتا ہے کہ انھیں پیشاب کی تنگی ہے اور پتھری بھی ایک سبب ہو سکتی ہے کیونکہ گردے اور مثانے سے ٹریول کر کے جب Urethra میں آتی ہے تو وہاں آ کر رک جاتی ہے تو وہ بھی اس کا سبب بن سکتی ہے کسی کو Prostateکا کینسر ہے یا اعضاء تناسل کا کینسر ہے تو وہ بھی Urethral Stricture کا سبب بن سکتا ہے۔
Scar tissue کیوں بنتا ہے؟ اس کے بھی کئی اسباب ہیں جیسا کہ بار بار U.T.I کاہو جانا، سیکس سے Related بیماریاں اور Urethra میں Inflammation ہو جانا، چوٹ لگ جانا. مثانے سے مصنوعی طور پرپیشاب نکالنے سے نالی میں انفکشن ہو جانا، بعض مریضوں میں بار بار یہ عمل دہرانے سے Urethra تنگ ہو جاتی ہے، اس کی کئی علامات ہو سکتی ہیں اس پر ہم بعد میں بات کریں گے۔ یہاں ایک بات غور طلب ہے کہ زیادہ عمر کے لوگوں میں پیشاب کی بندش اور رکاوٹ ہوجاتی ہے۔ لیکن ایسازیادہ تر پروسٹیٹ گلینڈکے بڑھ جانے سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر نوجوان لوگوں میں پیشاب کی تنگی ہو تو زیادہ امکان ہے کہ ان کی Urethra میں تنگی ہو گئی ہو۔
Urethral Stricture سے کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مثلاًجب آپ پیشاب کے لئے بہت زور لگاتے ہیں تب آپ کو ہرنیا ہو سکتا ہے، piles کی بیماری ہو سکتی ہے، کانچ نکلنا ہو سکتا ہے اور جب مثانہ پورا پیشاب سے خالی نہیں کر سکتا تو اس سے آپ کے مثانے یا پروسٹیٹ میں بلکہ Back pressure کے ساتھ Kidney میں بھی انفیکشن ہو سکتا ہے۔
علاج
اب ہم علاج کی طرف آتے ہیں۔اور ہومیوپیتھی میں یہی ہماری فیلڈ ہے جہاں ہم کچھ کر سکتے ہیں۔ جہاں میڈیسن کی فیلڈ میں ہم دوسروں سے بہتر پرفارم کر سکتے ہیں۔
دیکھیں جہاں تک ہومیوپیتھی کا تعلق ہے۔ بات پھر وہی Individualization کی بات آتی ہے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی۔
کلاسیکل ہومیوپیتھک پریکٹس میں ہماری مجبوری ہے کہ ہم نے مریض کی انفرادیت کو مدِ نظر رکھنا ہوتاہے۔اگر اس پہلو کو نظرانداز کر دیا جائے تو سارا سسٹم بے جان ہو جاتا ہے۔برائیلر مرغیوں کی طرح۔
ہم نے مریض کا مزاج، ہسٹری، اس کی علامات، اسباب، Modality،پتھالوجی ساری چیزیں دیکھ کر دوا تجویز کرنا ہوتی ہے۔ اگرچہ کچھ دوائیں اس بیماری کے لئے بہت معروف ہیں۔ جیسے Conium Chimaphila, Clematis, وغیرہ۔ ہم سب دواؤں پر الگ الگ سے بات کریں گے۔
Clematis
سب سے پہلے ہم Clematis پر بات کر تے ہیں۔ اس دوا کی سب سے بڑی علامت پیشاب کی حاجت آنے پر زور لگانا۔ یعنی مریض کو پیشاب کی حاجت آئی ہوتی ہے لیکن وہ زور لگانے کے بغیر پیشاب خارج نہیں کر سکتا۔یا حاجت ہونے پر روکنا مشکل۔ پیشاب گاڑھا، گدلا،بلغمی اور لیسدارہوسکتا ہے۔پیشاب کی دھار نہیں بنتی۔ مریض کو پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے اور ہر بار تھوڑا سا پیشاب نکلتا ہے اور پیشاب کرنے کے بعدکچھ قطرے گر جاتے ہیں اور بعض اوقات جلن بھی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر پیشاب کے آخری قطرے بہت جلن دار ہوتے ہیں۔Testis میں سختی پائی جاتی ہے۔ سی جی ایچ جہر کی نظر میں یہ فرسٹ رینک کی دوا ہے۔
Clematis میں پیشاب کرتے وقت مریض کو انتہائی تنگی کا احساس ہوتا ہے اور مریض ایک ہی وقت میں اپنا بلیڈر خارج نہیں کر سکتا۔ پیشاب چلتا ہے، رکتا ہے اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں، Clematis میں اور اگر پیشاب قطرہ قطرہ خارج ہو تو وہاں بھی آپ Clematis پر غور کریں اور ایسے مریض جن کی ہسٹری میں گنوریا پایا جائے تو وہاں بھی Clematis آپ کی خا ص الخاص دوا ہے۔

نائیٹرک ایسڈ
اس میں پیشاب کی دھار بہت پتلی ہوتی ہے، باریک ہوتی ہے، جلن اور ڈنگ مارنے جیسا درد، مریض کو محسوس ہوتا ہے۔ پیشاب مقدار میں کم، رنگت میں گہرا اور انتہائی بد بودار ہوتا ہے۔ حاجت ہونے پر روکنا مشکل۔ مریض کو پیشاب آنے سے پہلے جسم میں سردی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔

Prunus spinosa
بھی ایک اچھی دوا ہے اور اس میں کہا جاتا ہے کہ پیشاب کی دھارایسے ہوتی ہے کہ دھاگے جیسے پتلی نکلتی ہے اور بعض کیسوں میں پیشاب کی دھار دو یا تین دھاروں کی طرح نکلتی ہے۔ جیسے آپ کانٹے کی شکل ہوتی ہے اور مریض کو بہت زور لگانا پڑتا ہے۔ اس دوا کی ایک عجیب علامت ہے جیسے پیشاب نالی کے سرے پر آ کر پھر سے شدید تکلیف کے ساتھ لوٹ رہا ہو۔پیشاب کی نالی میں دکھن کا احساس۔نالی میں تشنج والی دردیں۔

Chimaphila
سوزاکی اخراج۔ اس میں بھی مریض بہت زیادہ زور لگاتا ہے، تھوڑا سا پیشاب آ تا ہے، پھر زور لگاتا ہے پھر پیشاب آتا ہے، پیشاب کے ساتھ جلن بھی موجود ہوتی ہے Chimaphila پیشاب کی تنگی میں، Chimaphila کی خا ص الخاص علامت یہ ہے کہ مریض کھڑے ہو کر اور اپنے پاؤں کو بہت زیادہ پھیلاتا ہے تو اس کا پیشاب خارج ہوتا ہے اور تھوڑا سا آگے کو جھک کر پیشاب کرنا ہوتا ہے۔
Magnesia mur.
کی بھی یہی علامت ہیں۔ سوائے اس کے کہ مریض کا پیڑو والا حصہ ہے وہ نیچے کی طرف بوجھ محسوس کرے جس کو ہم Bearing-down کہتے ہیں۔ اس دوا میں کاسٹکم کی طرح پیشاب کی نالی کی بے حسی پائی جاتی ہے۔نالی سُن ہو جاتی ہے۔

Merc sol.
بھی Urethral Stricture کی بہت اہم دوا ہے۔ اس میں چوبیس گھنٹے مریض کو پیشاب کی حاجت رہتی ہے۔ دن رات، پیشاب میں جلن ہوتی ہے۔ پیشاب میں بلغمی جھلیاں خارج ہوتی ہیں۔ پیشاب گاڑھا سبزی یا زردی مائل۔ پیشاب کرنے کے دوران نالی میں خارش۔پیشاب کے شروع میں جلن زیادہ اور دوران میں قدرے کم۔پیشاب کی نالی میں سوئیاں چھبنے جیسا درد۔

نیٹرم میور
نیٹرم میور میں انڈے کی سفیدی کی طرح لیسدار، دودھیا سوزاکی اخراج اور اگر خاص طور پر مریض رات کو بار بار پیشاب کے لئے اٹھے، وہاں آپ نیٹرم میور پر غور کر سکتے ہیں اور مریض کو جب پیشاب کی حاجت ہوتی ہے تو وہ اس کو روک نہیں پاتا، فوری جانا پڑتا ہے یہ نیٹرم میور کی علامت ہے۔ پیشاب کرنے کے بعد جلن میں اضافہ۔

سیبل سیرولیٹا
سیبل سیرولیٹا اگرچہ پروسٹیٹ کی سوجن میں ظاہر ہوتی ہے لیکن مریض کو پیشاب کی نالی کے تین انچ کے فاصلے پر رکاوٹ کا احساس ہوتا ہے پیشاب کرنے کے بعد بھی مثانے کے بھرے ہونے کا احساس باقی رہتا ہے۔ تاہم یہ دوا زیادہ تر معمر لوگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

کینتھرس
کینتھرس پیشاب میں جلن کی ٹاپ کی دوا ہے۔ اکثر معالجین اسے روٹین میں استعمال کرتے ہیں۔پیشاب کی نالی کے تنگ ہونے میں کینتھرس اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ مریض کو شدید جلن اور درد ہوتی ہے اور خاص طور پر پیشاب کا آخری قطرہ انتہائی جلن والا ہوتا ہے۔ پیشاب کی نالی کی جڑ سے جلن شروع ہوتی اور آگے تک پھیلتی جاتی ہے۔ اس دوا میں پیشاب کی دھارکئی حصوں منقسم ہو جاتی ہے یاTwist ہو جاتی ہے یعنی بل کھا کر نکلتی ہے۔پیشاب کی نالی میں تنگی اور کھچاؤ کا احساس۔کاٹنے والے درد۔ایستادگی بھی دردوں والی ہوتی ہے۔ کینتھرس میں خونی اخراج بھی پایا جاتا ہے۔

ایپس میلیفیکا
ایپس میلیفیکا میں پیشاب مقدار میں کم اور سوئیاں چبھنے جیسا، اس میں درد ہوتا ہے اور آخری قطرے بہت ہی تکلیف سے آتے ہیں۔ پیشاب کی نالی میں حرارت، جلن اور خارش۔اس دوا کی خاص علامت یہ ہے کہ جب انتخاب درست ہو تو پیشاب کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔

آرنیکا
جہاں کہیں بھی چوٹ لگنے کے برے اثرات ہوں آرنیکا بہت اہم دوا ہوتی ہے۔ یہ ایسی چوٹ ہوتی ہے جو کہ کُند آلے سے لگی ہوتی ہے یعنی تیز دھار آلے کے Opposite جو ہوتا ہے یا کہیں پر کسی کو کوئی کرکٹ کی بال لگ گئی یا وہ کسی ایسی جگہ پر گرا ہے جہاں پر اس کو اس حصے میں چوٹ لگی ہے اور پیشاب کے دوران مریض کو ایسی دردیں ہوتی ہیں، جیسے رگڑ لگنے سے ہو رہی ہوں، وہاں پر آرنیکا کے بارے میں آپ کو سوچنا ہو گا۔
آرنیکا نوزائیدہ بچوں کے پیشاب رک جانے کی سب سے بڑی دوا ہے۔دوسری بڑی دوا ایکونائٹ ہے۔

سلفر آئیوڈائیڈ
پیشاب کی خواہش زیادہ لیکن مقدار کم اور اگر پیشاب کی تنگی، سوزاک یاگنوریا کے سبب ہو تو وہاں آپ سلفر آیو ڈائیڈ پر بھی غور کریں۔

Urethral میں scared tissue کو dissolve کرنے کے لئے Thiosinaminum بہت معروف دوا ہے مثانے کے حاد امراض میں ظاہر ہوتی ہے۔ پیشاب مقدارمیں زیادہ آتا ہے۔

Urethral Stricture کی دس سب سے بڑی دواؤں میں
Chimaphila, Cantharis, Thiosinaminum, Conium, Clematis, Sulphur Iodide, Arnica or Magnesia mur. شامل ہیں ۔
ہم میازمیٹک نکتہ نظر سے بھی بات کر لیں۔ یہ بیماری سائیکوٹک نوعیت کی ہے۔ سی ایم بوگر نے لکھا ہے اگر آپ کسی مریض میں جسے ماضی میں گنوریا رہ چکا ہو اس کا Stricture اس وقت تک دور نہیں کر سکتے جب تک اس کا دبا ہوا گنوریا بحال نہیں ہو جاتا۔اور Stricture کے حوالہ سے عرض کروں کہ ضروری نہیں یہ پیشاب کی نالی میں ہی ہو بلکہ جہاں بھی ہو گا اس کے پس منظر میں سائیکوٹک میازم ہو گا۔
تھوجا اور میڈورینم دو ٹاپ کی اینٹی سائیکوٹکس دوائیں ہیں، دورانِ علاج جن کی اکثر ضرورت پڑتی ہے۔

ہومیوپیتھک ربرکس For Urethral Stricture
Homeopathic rubrics for urethral strictures:
” Urethra, stricture
” Urethra, stricture, bruised pain in testes with
” Urethra, stricture, convulsive, spasmodic
” Urethra, constriction, convulsive, spasmodic
” Urethra, constriction, urination during
” Urethra, haemorrhages, gonorrhoea, after suppressed
” Urethra, haemorrhages, urination, after
” Urethra, inflammation, chronic
” Urethra, narrowing of
” Urethra, pain, drawing.
” Urethra, pain, agonising
” Urethra, pain, drawing, urination after
” Urethra, pain, dragging, extending to bladder
” Urethra, tumor
” Urine, bloody
” Bladder, urination, difficult
” Bladder, urination, dribbling by drops
” Bladder, urination, dribbling by drops, retention with
” Bladder, urination, dysuria, stricture with

” Bladder, urination, interrupted
” Bladder, urination, unsatisfactory, bladder was not emptying, as if dribbling
” Urethra, gonorrhoea, suppressed.

ریپرٹری کے مطابق دوائیں
URETHRA – STRICTURE (synthesis)
Apis Arg-n. Berb. Calc. Cann-s. CANTH. Chim. CLEM. Con. Dig. Dulc. Graph. Indg. Iod. Kali-i. Merc. Nat-m. NIT-AC. PETR. Petros. Phos. PULS. Sil. Sulph.

URETHRA – STRICTURE – general (complete repertory)
APIS ARG-N. BERB. CALC. CANN-S. CANTH. CHIM. CLEM. CON. DIG. DULC. GRAPH. INDG. IOD. KALI-I. MERC. NAT-M. NIT-AC. PETR. PETROS. PULS. SIL. SUL-I. SULPH.

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.