showcase demo picture

کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ) (پارٹ ۔47)


متحرم قارئین،ہم آپ کی خدمت میں مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹرمرزا انور بیگ کی کتا ب سے اقتباسات پیش کرتے رہیں گے۔
امید ہے کہ آپ کو پسند آئے گا۔
کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ)
(پارٹ ۔47)

یہاں پر کچھ خاص عجیب وغریب کیسوں کا ذکر ھے ؟
عجیب و غریب کیس جو میں نے زندگی میں پہلے نہیں دیکھے تھے نہ ہی سنا تھا کہ ایسے بھی ہو سکتا ہے!ان کا کامیاب علاج کیا۔
اس وقت اس کی عمر کوئی سات آٹھ برس کی ہو گی۔ اب جوان ہو چکی ہے۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ آئی ہوئی تھی بہت ہی اُداس ۔اس کے چہرے پر مایوسی طاری تھی ۔ناک میں عجیب طرح کے گومڑ تھے جو اس کی خوبصورتی پر داغ بنے ہوئے تھے۔معلوم ہوا اس کے سر اور دونوں کانوں پر بھی ایسے ہی بد نما گومڑ تھے،چھوٹے بڑے اور کچھ ہی بڑے تھے۔وہ اسکول جانا نہیں چاہتی تھی اسکول میں اس کی دوست لڑکیاں اس کی چھیڑا کرتی تھیں۔
پس میں نے اسے اس کی اسی اداسی ومایوسی کو دیکھ کر اس کی دوا تجویز کی تھی۔نتیجہ امید سے زیادہ بہتر نکلا تھا۔دوسری وتیسری بار جب وہ آئی تھی اس کے چہرے سے وہ مایوسی ونا امیدی غائب ہو چکی تھی۔اس کے والدین کافی حیثیت والے تھے مگر وہ اپنی اس بچی کے اس عجیب وغریب مرض کا علاج نہ کروا سکے تھے۔حالانکہ انہوں نے کئی طرح کے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے رجوع کیا تھا۔یہ مرض اس بنا پر عجیب وغریب اس طرح سے بھی تھا کہ وجہ اس کی کوئی جین تھی جو کسی وجہ سے متاثر ہوئی تھی اور یہ بھی بڑا عجیب وغریب سوال تھا۔اس کے والدین آپس میں رشتے کے نہ تھے کہ وجہ اس کے سر مڑھ دی جاتی۔جنیاتی الٹ پھیر کے کیس کے پیچھے عام طور پر ایسی وجوہات ہوتی ہیں اور اکثر جن کا کوئی علاج نہیں ہوتا پس ریسرچ پر ریسرچ نتیجہ کوئی نہیں۔اس کے چہرے وسر پر ان گومڑوں کا حال یہ تھا کہ عمر کے ساتھ وہ بڑھ رہے تھے۔پہلا گومڑ اس کے ایک کان پر آ یا تھا جب وہ ایک برس کی تھی ۔اس کا وہ کان۔شروع شروع میں اس میں ایکزیمہ کی طرز کا کوئی جلدی مرض تھا جس کا علاج جلد کے ڈاکٹر نے کیا تھا کئی طرح کے مرہموں کا استعمال کیا تھا۔جس کے بعد سے اس کے کان سے وہخارش نما مرض تو جاتا رہا تھا مگر اس جگہ پر ایک گومڑ سا ابھرنے لگا تھا۔ایسے گامڑ کو KELOIDکہتے ہیں۔ایک طرح سے جو کسی انفیکشن کے باعث ہوئی ہو یا ایلرجی کو دبا دینے کے بعد ہوتے ہیں۔پرانے ماہرین اس کے پیچھے ٹی بی وکینسر جیسے امراض کے بیچ کو دیکھا کرتے تھے اور اس طرح کے گومڑوں کو چھیڑا نہ جائے ایسی تاکید کرتے۔یہاں یہ ہوا کہ اس جلد کے ماہر نے اس کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اب کسی سرجن کو دکھائیں اس کے مطابق جگومڑلد کا وہ مرض ٹھیک ہو چکا تھا یہ جو ہوا تھا وہ کسی سرجن کے فیلڈ کا تھا یعنی سرجری کا تھا جلد کا مرض نہ تھا۔ اور وہ سرجن جلد کے اس ماہر سے بھی قابل ثابت ہوا تھا اس نے اس کی سرجری کر دی تھی۔جو ایسے کیلوئیڈ نما گومڑ کی نہیں کرنی چاہئیے تھی۔اس بات کی پرانے سرجن اپنے تجربے کی بناء پر تاکید کر چکے ہیں۔اس سرجری کے ماہر ڈاکٹر کو اس کا پتہ نہ تھا۔بعد میں ہوا یہ کہ وہ گومڑ اور زیادہ بڑا ہو کر ابھرا جس کا دوبارہ آپریشن کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد یہ ہوا کہ کان میں سے تو ابھرا ابھرا،سر اور دوسرے کان میں بھی نمودار ہوا پھر ناک واس کے انگوٹھے اور پیر کے انگوٹھوں پر نمودار ہوا۔اور پھر رفتہ رفتہ ان گومڑوں نے ایسی شکل اختیار کر لی کہ دیکھنے سے ہیبت ہوتی تھی۔ان گومڑوں نے اس کے پورے وجود کو بدنما بنا کر رکھ دیا تھا۔جس کے باعث وہ زندگی سے مایوس ہو چکی تھی۔میں نے اس کی انہی ذہنی علامتوں کو دیکھ کر اس کا علاج کیا تھا ایک گائیڈنگ بات جو تھی وہ یہ کہ اس کا مرض پیدائشی نہ تھا بلکہ ایک برس کی عمر کے بعد سے نمودار ہوا تھا۔اسے بی سی جی کا ٹیکہ پیدائش کے وقت لگایا گیا تھا مگر اس کا نشان نہ تھا،اسی بات نے میری رہنمائی کی۔میں نے ایسے امراض کو بی سی جی پولیو سنڈروم کا نام دیا ہے۔اپنی آرش اکیڈیمی کی دس برسوں تک کی اسٹڈی کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکثروبیشتر ایسے امراض کہ جن کہ وجہ کئی طرح کے انفیکشن ہوتے ہیں وہ دراصل ہماری ان ویکسینوں کی وجہ سے ہیں جن میں زندہ جرثومے ہوتے ہیں اور یا وائرس کے مالیکیول۔ہوتا یہ ہے کہ کئی بچے جن کی تاثیر کمزور ہووہ ان جرثوموں نیز مالیکیول سے لڑ نہیں پاتے اور یہی بعد ازاں بجائے اس کے کہ ایسے بچوں کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھیں کہ جن کے لئے لگائے گئے تھے انہی جیسی ملتی جلتی بیماریوں کے پیدا ہونے کا سبب بن جاتے ہیں کہ جن کا تعلق کچھ تو ٹی بی سے اور کچھ کینسر سے ہوتا ہے۔انہی کے جرثومے و مالیکیول ان جنین کے بھیتر داخل ہو کر ان جنین کو بھی متاثر کرتے ہیں کہ جن میں ہمارے سنسکار بھی ہوتے ہیں اور دیگر عضوؤں کو بنانے بگاڑنے کے جینس بھی۔ایسے امراض بہت ہی پیچیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں ۔جو کہ بار بار سردی نزلہ زکام کی وجہ بھی بنتے ہیں اور ایسے پیچیدہ عجیب وغریب امراض کو بھی کہ جن کے تعلق اکثروبیشتر ہمارے کام چلاؤ علاج کے ماہرین جن سے لا علم ہوتے ہیں ۔
جاری ہے۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.