showcase demo picture

کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ) Last Part


کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ)
Last Part
ایڈز ہے کیا؟
سوچ رہا ہوں اب یہاں اپنی کہانی کو ختم کروں ۔لکھنے لکھانے کا باقاعدہ
سلسلہ ایڈز سے شروع ہوا تھا،ایڈز پر ختم کر رہا ہوں ۔مندرجہ تحریر حال ھی میں
“اردو ٹائمز”میں شروع ہوئی ہے۔
ایڈز ایک ایسی بیماری ہے کہ جس نے میڈیکل طب کے سائنس دانوں کو آج تک حیرت میں ڈالا ہوا ہے۔کچھ دنوں بعد ورلڈ ایڈز ڈے منایاجائے گا۔لال رنگ کے فیتے کو طرح طرح سے میڈیا والے سرخیوں میں چھاپیں گے۔یہ لال رنگ کا فیتہ ایک آرٹسٹ کا بنایا ہوا ہے جسے ایڈز تھا۔اس فنکار کا کیا ہوا یہ تو اب اللہ کو معلوم۔یہاں اتنا بتا دوں کہ ایڈز ہوتی ہے ایسے ہی فنکار لوگوں کو،تخلیقی ذہن کے لوگ ہوتے ہیں یہ ساتھ ہی اپنی اور اپنی فیملی کے اسٹیٹس کو بڑھانا بھی چاہتے ہیں ۔محنت کش ہوتے ہیں مگر ڈرتے ہیں بیماری سے۔با ت بات پر دوا کھانے کے عادی ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹری محض پیشہ نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے اپنے مریض کے لئے کہ جو اپنے اس ڈاکٹر سے امید رکھتا ہے اپنے مرض کی صحت یابی کے لئے۔مگر آج کے ڈاکٹر،اکثر،امریکی طرز پر ڈھالے ہوئے اس ڈاکٹری پیشے کو کاروبار بنانے والے ہو گئے ہیں ۔اس انگریزی برانڈ طب کو لوگ ایلوپیتھی سمجھتے ہیں ۔اس لئے آج کے کچھ طبیب نیز یوگی اور سادھو بھی سیدھے سادے لوگوں کو بیوقوف بنا کر کیسے کاروبار کیا جاتا ہے اس میں ماہر ہو چکے ہیں۔آج کی یہ ایلوپیتھی امریکہ کی اینٹی یعنی الٹی پیتھی ہے اور جس سے خود سب سے پہلے امریکی نالاں ہوئے اس لئے وجود میں آئی نیچر کیور سائنس۔امریکہ نے جس کو نام دیا آلٹر نیٹیو میڈیسن کا۔
امریکہ کی ایلوپیتھی شروع ہوئی جانوروں پر تجربوں سے آج جس کی عمر ہو گئی قریب ستر اسی برس کی۔آج کا ڈاکٹری پیشہ جہاں ڈاکٹری دو کمپنیاں بتاتی ہیں،دوا اور بیماری کیا ہے لیبارٹری بتاتی ہے ،آج کے رائج ٹیسٹوں کی بنا پر ڈاکٹر تو صرف دوا لکھ دیتے ہیں جو کسی کمپنی کی بنائی ہوئی ہوتی ہے،سکہ سرکار کا ہوتا ہے۔
امریکہ میں تو ایسی کئی دواؤں کو بین کر دیا گیا ہے مگر دوسری دنیا میں یہ آج بھی رائج ہیں۔ان دواؤں نے اب تو ہر کسی کو ڈاکٹر بنا دیا ہے۔ یہ اس کی اور وہ اس کی اکثر لوگ جانتے ہیں ۔چاہے یونانی ہو،آیورویدیا ہومیوپیتھی کی دوا آج بکتی ہے بیماریوں کے نام سے۔امریکہ کی اس ایلوپیتھی کی پیدائش بیسویں صدی کی ہے۔اس صدی میں ایڈز سے مرے قریب انیس لاکھ لوگ اور نفلوئنز(آج جس کو برڈفلو کہتے ہیں)سے مرے تھے قریب پچاس لاکھ لوگ۔یہ 1918کی بات ہے۔جبکہ ایڈز آیا1980میں۔
انفلوئنزا آتا ہے ہر کچھ سالوں کے بعدچاہے سوائن فلو کی شکل میں ۔ہر برس نہیں آتا،آتا ہے کچھ برسوں کے بعد،دس برس،بیس برس یا تیس،اور کبھی کبھی سو برس بعد آتا ہے۔ہاں مگر جب بھی آیا بہتوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔
ایڈز کی تاریخ شروع ہوتی ہے سوائن فلو یعنی انفلوئنزا سے۔1976میں یہ مرض امریکہ میں نازل ہوا تھا امریکی ایلوپیتھی سے بہتوں کا علاج نہ ہو پایا۔1978اور1976کے درمیان بہت سے لوگ مرے۔مرنے والوں میں زیادہ تو نوجوان اور نئی عمر کے لوگ تھے۔امریکی ڈاکٹروں نے اپنی ناکامی کا ٹھیکرا لاد دیا ایڈز پر کہ ایڈز ہے اس لئے ہم نہ کر پائے علاج۔اور اس بیماری کو جوڑ دیا سیکس سے اور نشہ کرنے والے نوجوانوں کو ان کے نشے سے ۔اور کہ جو ہومیو سیکس تھے۔بعد ازاں اس کی دہشت پھیلائی ساری دنیا میں۔1985میں ڈھونڈ لیاHIVکو یعنی ہیومن امیون ڈیفی سیئنسی وائیرس اور ساری دنیا نے جس کو تسلیم کر لیا کہ ہے یہ ایسا وائرس کہ جو انسانوں کی بیماری سے لڑنے والی طاقت امیونیٹی کو متاثر کرتا ہے۔ یورپ کے ایک ڈاکٹر نے جسے دیکھا تھا بلڈ کینسر کے ایک مریض میں جس کو خون دیا جاتا تھاامریکہ کے ایک ڈاکٹر نے دیکھا ایسے دو نئی عمر کے بچوں میں جن کا تعلق ہیٹی سے تھا۔ہیٹی امریکہ کے پاس ایک جزیرہ ہے جہاں موجمستی کے لئے لوگ جاتے ہیں،اکثر ہومو سیکس ہوتے ہیں،بچوں کے رسیا،اس طرح اس بیماری کو جوڑ دیا گیا سیکس سے اور کہ جو اب تک جڑا ہوا ہے۔کب کس کی پگڑی اتر جائے نہیں کہا جا سکتا۔کسی کی ماں نثروں سے گر جائے کس کی نانی دادی بس۔امریکہ برانڈ کے ان جانچ کے طریقوں کی جئے کرتے رہیئے۔
ایڈز دراصل ہمارے امیون سسٹم یعنی کہ ہماری اپنی تاثیر کی نا سمجھی ہوتی ہے۔آٹو امیون ڈیزیز یعنی اپنی تاثیر کی نا سمجھی کی بیماریاں اب بہت زیادہ ہو چکی ہیں ۔طرح طرح کے نام ہوتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بیمار ہیں جبکہ اکثر خود ہمارے ڈ اکٹر ہو چکے ہیں ۔اکثر میں بیماریوں کی سمجھ ہی نہیں جانچوں پر انحصار کرتے ہیں ۔جانچ کے کِٹ یورپ اور امریکہ سے آتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں ہمارے اپنے بچے کیا ان کی بانہہ پر بی سی جی ٹیکے کا نشان ابھرا۔آرش اکیڈیمی میں ہوئے سروے کے مطابق تیس فیصد بچوں میں بی سی جی کا نشان نہ تھا۔تیس فیصد وہ تھے کہ جنہوں نے اسکار بنایا تھا۔اسکار یعنی داغ جیسے چوٹ کے بعد زخم کے سوکھنے پر پڑتا۔ان تینوں باتوں کی الگ الگ اہمیت ہے کیونکہ دس فیصد ہی ایسے تھے جن کی بانہہ پر نارمل اسکار تھا۔ نہ کم نہ زیادہ۔میری کتاب “سرجری ود آؤٹ نائف”میں جن کا تذکرہ کر چکا ہوں اور یہ رپورٹ سرکار تک پہنچائی بھی ہے مگربس۔کیا کہیں گے اس ڈاکٹر کو کہ کو اپنے پیشے کو ایمانداری اور ذمہ داری سے نبھاتا ہے۔
چھاتی کے کینسر،پروسٹیٹ،جگر اور تھائیرائیڈ کے،دماغ کے ٹیومر،چوٹ لگنے کے بعد کے کینسرایسی کئی بیماریاں ہیں اب سے پچاس برس پہلے جن کا وجود نہ تھا یا کہ کبھی کبھار کسی کسی کو ہوتی تھیں ۔اب تو جیسے وبائی شکل اختیار کر رکھی ہے ایسی بیماریوں نے۔یہ سب ایڈز یعنی کہ ہمارے نظام دفع کی کمی یا کہ انتشار کے باعث ہوتی ہیں۔ان ساری باتوں کی وجہ ہمارا آج کا یہ رائج الوقت علاج ہی ہے کہ جسے ہم ایلوپیتھی کہتے ہیں ۔علامتوں کو زائل کر دینا علاج سمجھا جاتا ہے جبکہ علامتوں کی بناء پر ایک صحیح ڈاکٹر بیماری کا پتہ پا سکتا ہے یہی تو ڈاکٹری ہے نہ کہ جانچ یہ بڑھ گیا وہ گھٹ گیا۔ذیا بیطس کی بات کروں تو شکر اس لئے بڑھی ہوئی ہے کہ اب ہماری اپنی اکسیجن ہی نقلی ہے زہر آلود فضا میں سانس لینے کے لئے مجبور ہیں۔کِن کِن باتوں کا ذکر کروں امریکہ میں اتنا تو ہے کہ وہاں کی سرکار اپنے لوگوں کے لئے ایماندار ہے جس تیزی سے نئی نئی دوائیں نئے نئے امراض کے علاج کے نام سے وجود میں آتی ہیں کچھ برسوں بعد رد بھی کر دی گئی دوائیں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں ۔بار بار ملیریا کیوں ہو رہا ہے کیوں ڈینگولا علاج ہو گیا ہے ۔برڈ فلو اور سوائن فلو کا علاج کوسوں دور تب کیا کریں کیا نہ کریں ۔امیون سسٹم کہتے ہیں جینے کیلئے مرنا پڑتا ہے کو۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں دو تاثیر رکھ دی ہے کہ جو اپنا بگاڑ سدھارنا بھی جانتی ہے۔اس لئے صبر کریں بیمار پڑیں تب گھبرانا نہیں چاہئیے۔ چاہے ہارٹ کی بات ہو یا گردوں کی۔ ڈاکٹری جانچ کے مطابق اکثر کی رگیں چوک یعنی بند ہیں کہا جاتا ہے۔گردے کام نہیں کر رہے ہیں ایسا بتایا جاتا ہے۔ہارٹ کی رگیں چوک ٹینشن سے ہوتی ہیں فکر کرنے سے جب کہ گردے خراب درد کو دور کرنے والی گولیوں سے۔مطلب یہ کہ امریکہ بہادر کی تمام دوائیں کسی نہ کسی وجہ سے کام سے زیادہ نقصان کا باعث بنی ہوئی ہیں۔تب کیوں نہ اپنائیں نیچر کیور کو۔قدرتی علاج ہے اور کہ جو کئی شکلوں میں ہے۔صبح کی تفریح آپ کو وٹامن ڈی دیتی ہے آکسیجن دیتی ہے اور یہ دونوں ایک اچھی صحت کے لئے ضروری ہیں۔اللہ میاں سورج کی کرنوں،ہاں مگر صبح صبح کی،کے ذریعے وٹامنڈی مفت بانٹتے ہیں۔اس لئے صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈال لیں۔نیند لانے کے لئے نیند کی گولیوں سے پر ہیز کریں ۔سفید پانی کے لئے لیڈی ڈاکٹر کی بتائی رکھنے کی گولیاں بھی آپ کو ایڈز کی طرف لے جا سکتی ہیں ۔کہنے کی بات آج کی اس امریکن برانڈ ایلوپیتھی کے دن لد چکے ہیں ۔اسپتالوں میں امریکن برانڈ انجینئرنگ طرح طرح کی میڈیکل ایڈبس ایڈ ہی ہیں شفا یابی تو آسمانوں سے اترتی ہے امریکہ بہادر کی دوا بزنس میں ہے۔آج کے سات ستارہ اسپتالوں میں ایسا علاج آپ کی کچھ پریشانیوں کو ضرور دور کر دے گا ٹھیک کبھی نہیں کرے گا۔گلو کوز سلائین اور پین کلر ،سانسوں کو بحال کرنے کی مشین بلڈ پلیٹ لیٹس دینا خون چڑھانا بس کچھ حد تک ہی ہے۔اس لئے علاج یا تو پرانی ایلوپیتھی میں ہے یا قدرت کے کارخانے میں۔ایسے میں اپنے صحیح معالج کو پہچانئیے،آج بھی ہیں ایسے ڈاکٹر۔
ختم شدہ

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.