showcase demo picture

ہومیوپیتھی اور پتھالوجی


ہومیوپیتھی اور پتھالوجی
ہماری ہومیوپیتھک برادری میں وقتاًفوقتاً پتھالوجی، لیب ٹسٹ، فزیالوجی کی اہمیت پربات ہوتی رہتی ہے،
اس حوالے سے میرے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔میں فیس بک پر اور اپنے لیکچرز میں بار ہا اناٹومی، فزیالوجی اور پتھالوجی کی اہمیت پر بات کر چکا ہوں۔ اور ان کی اہمیت سے شاید ہی کسی ہومیوپیتھ کو انکار ہو۔یہ کہنا بجا کہ ہمیں مذکورہ علوم سے بہرہ ور ہونا چاہیے۔
تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ اس حوالے سے ڈپلومہ ہولڈرز ہومیوپیتھ اکثر زیرِ عتاب اور طعن و تشنیع کا شکار رہتے ہیں کہ انہیں مذکورہ علوم کا ککھ علم نہیں۔
لہذا آج پھر اس موضوع پر ایک پوسٹ حاضر خدمت ہے۔ میری دانست میں ہر شخص اپنی سکت کے مطابق ہی ان کا علم حاصل کر سکتا ہے اور یہ بات درست کہ ایک عام ایلو پیتھ بھی نہ تو ساری پتھالوجی جانتا ہے اور نہ ہی اسے سارے لیب ٹسٹ ( جو میری معلومات کے مطابق تین ہزارسے زاید ہیں ) کا درست علم ہے۔ ایلوپیتھی میں دراصل ہر شعبہ کے سپیشلسٹ ہیں اور انہیں بس اپنی فیلڈ کا ہی خصوصی علم ہے ۔ اب ایک ای این ٹی کی بلا سے کہ آپ کے گوڈے درد کرتے ہیں اور آئی سپیشلسٹ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آپ کا پیشاب رستا ہے۔ مقصد یہ کہ یہ ہر معالج کے بس کی بات نہیں کہ وہ ساری دنیا جہان کے مرض بھی ٹھیک کرنے کا دعویٰ کرتا ہو اور جینز اور ڈی این اے، آر این اے تک کے علم آشنا ہونے کا ماہر بھی ہو۔ تاہم ہر طریقہِ علاج کی اپنی اہمیت ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں۔
اب یہ الگ بات کہ ہم میں سے بیشتر ساتھ کمزور اور بہت کمزور بھی ہیں
لیکن میری نظر میں بطور ہومیوپیتھ ان کی کمزور ی کی اصل وجہ اناٹومی، فزیالوجی یا پتھالوجی کی کم علمی نہیں بلکہ ہومیوپیتھک فلاسفی، کیس ٹیکنگ اور میٹیریا میڈیکا میں کمزور ہونا ہے۔ ہماری بدقسمی کہ ہم اصل ایشوز کو نظرانداز کرکے نان ایشوز کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے ، کیا گزشتہ پچاس سال والے بابے جن کی قابلیت پر کسی کو شک نہیں ،ایلو پیتھک ڈاکٹروں جیسا علم رکھتے تھے؟ ہر گز نہیں
کیا وہ پتھالوجی کے ماہر تھے؟ ہر گز نہیں۔ کیا انہوں نے بگڑے ہوئے کیس ٹھیک نہیں کیے ؟ یقیناً کیے۔
اصل بات کچھ اور ہے۔
میں سمجھتا ہوں ہمیں فزیالوجی، پتھالوجی وغیرہ کی حمایت میں اتنا آگے نہیں بڑھ جانا چاہئے کہ فلاسفی ،میٹیریامیڈکا اور کیس ٹیکنگ پس منظر
میں چلے جائیں۔عدل کا تقاضا ہے کہ ہر موضوع کو اس مقام پر رکھیں جس کا وہ حقدار ہے۔
میرے نزدیک ایک ہومیوپیتھ اگر پتھالوجی، فزیالوجی کا اتنا علم بھی رکھے جتنا اسے کورس میں پڑھایا جاتا ہے تو بھی بہت ہے۔آپ کو لیب رپورٹس لکھنے پڑھنے اور سمجھنے آتے ہوں جن کا ہم سے روزمرہ پالا پڑتا ہے اور وہ کوئی اتنے زیادہ نہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے آپ کو پی ایچ ڈی کرنا پڑے۔ دراصل یہ ہمارا احساسِ کمتری ہے جو ہمیں ان علوم سے مرعوب رکھتا ہے۔
مثال کے طور پر blood cp, esr, bsr, bsf, lft ,rft,urine r/e, lipid profile, widal, typhidot,, H.pylori, hormones test, different x-rays,hcv,HbsAg, pcr, calcium, Vit d, gfr, ct scan, mri,ecg, ett,semen analysis, وغیرہ ایسے ٹسٹ ہیں جن کا روزمرہ واسطہ پڑتا ہے۔ جہاں تک سپیشل ٹسٹ ہیں وہ کبھی کبھار ہوتے ہیں اور اگر کسی کو ان کا مزید علم بھی ہے تو اچھی بات ہے،علم کی نفی تو کوئی نہیں کرتا۔
ہماری نظر میں ایک ہومیوپیتھ (کم ازکم) اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ سامنے بیٹھے مریض کے ضروری ٹسٹ لکھنا اور سمجھنا جانتا ہو۔اور اگر کوئی چاہے کہ اسے بیک وقت اتنا علم حاصل ہو جتنا ایک نیورو فزیشن، کارڈیالوجسٹ ، ریڈیالوجسٹ یا پتھالوجسٹ کو ہے تو یہ ناممکن ہے۔ کیونکہ یہ الگ الگ شعبے ہیں۔اور ان شعبہ جات کے ماہرین کو دوسرے شعبہ جات کا علم نہیں۔ ایک عام ایلوپیتھک ڈاکٹر بھی ایکسرے ، سی ٹی سکین،یا الٹرا ساؤنڈ وغیرہ پڑھنے کا مجاز نہیں۔ اس کے لیے وہ متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی رپورٹس کا محتاج ہے۔ہمیں پتھالوجی کی پاکیِ داماں کی حکایت کو بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
ویسے ایک بات عرض کروں۔ آج کل گوگل اور انٹر نیٹ کا زمانہ ہے۔ مریض سامنے بیٹھا ہو آپ ایک منٹ میں ہر پتھالوجی اور بیماری کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے میرے پاس مقامی ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر صاحب تشریف لائے۔ موصوف نے آنے سے پہلے بتایا کہ وہ lichen planus کا علاج کرنا چاہتے ہیں۔جب وہ تشریف لائے تو دورانِ کیس ٹیکنگ انہوں نے مجھ سے ایک سوال کیا ۔ ایسا سوال جس کی میں توقع کر رہا تھا۔ انہوں نے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں lichen planus کیا ہو تا ہے؟
میں نے ان کے سوال کے جواب میں اپنے سامنے پڑا کاغذ ان کے سامنے رکھ دیا جس کا ان کے آنے سے پہلے میں پرنٹ لے چکا تھا۔ انہوں نے پرنٹ دیکھا اور اس کے بعد کوئی سوال نہیں کیا۔ (کاغذ پر اس بیماری کی ساری تفصیل پرنٹ تھی)
لیکن اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اسے یہ سارے علوم انگلیوں پر یاد ہیں تو مبالغہ آرائی ہو گی۔میرے درجنوں ایسے ایلوپیتھ دوست ہیں کہ جب بھی ان سے کسی rare test کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کی یا کہا کہ وہ دیکھ کر بتائیں گے۔
میرا مطالعہ کے مطابق، ہومیوپیتھی میں ہر بڑے ڈاکٹر نے اگر مذکورہ علوم کی اہمیت کو بیان کیا تو اس سے کئی گنا زیادہ ہومیوپیتھی اصول و قوانین اور انسان کو سمجھنے اور ہومیوپیتھی کا Dynamic aspect سمجھنے پر زور دیا۔ اور یہی حقیقت ہے۔
دوسرا سسٹم پتھالوجی کے علم کے بغیر چل ہی نہیں سکتا، ان کی مجبوری ہے کیونکہ ان کی دوائیں پتھالوجی کو فوکس کرتی ہیں۔اور اگر ہم بھی ان کی نقل میں محض پتھالوجی کو فوکس کر کے باڈی پارٹس کو ٹھیک کرنا شروع کر دیں تو ہمارے اور ان میں فرق کیا رہ جاتا ہے ؟ مریض کو نظرانداز کر کے اس کی پتھالوجی کو دور کر دینا ہومیوپیتھی میں سپریشن کہلاتا ہے۔ جو سراسر اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
میرا کہنے کا مطلب ہے جوشِ جذبات میں جہاں آپ پتھالوجی کی حمایت میں دور تک نکل جاتے ہیں وہاں ہومیوپیتھی کے Dynamic aspect کو بھی اجاگر کریں تو انصاف ہو گا۔
میری نظر میں اگر کوئی ہومیوپیتھ مذکورہ تینوں علوم میں پی ایچ ڈی بھی کر لے لیکن ہومیوپیتھی کی روح سے نابلد ہو تو ساری عمرنالائق، ناکام اور نہلا ہی رہے گا۔
اور یہ بات کینٹ نے لکھی کہ وہ علامات جو پتھالوجی کے اعتبار سے جتنی قوی لیکن مریض کے اعتبار سے کمزور ہیں دوا تجویز کرنے کے لیے ان کی چنداں اہمیت نہیں۔کینٹ ایلوپیتھ بھی تھا۔ اس نے ایک اور جگہ لکھا، آج کل یہ فیشن عام ہو گیا ہے کہ بعض ہومیوپیتھ مشکل پتھالوجیکل اصطلاحات بیان کر کے دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
دوستو اگر غور کیا جائے تودراصل ڈسٹرب قوتِ حیات پتھالوجی کی ماں ہے۔ اور قوتِ حیات کی ڈسٹربنس کو سمجھنا ہی اصل ہومیوپیتھی ہے۔ہم جڑ کو بھول کر شاخوں میں الجھ جاتے ہیں۔پہلے اپنی جڑیں مضبوط کریں، بعد میں جو مرضی علم حاصل کریں، میرے نزدیک اصل ایشو جڑوں میں دیمک لگ جانا ہے۔ماڈرن سائنس شاخوں میں الجھی ہوئی ہے اور بُری طرح الجھ کر اپنا دامن تارتار کر لیا ہے۔
ہم سائنس سے بہت مرعوب رہتے ہیں۔یہ وہی سائنس ہے نا جس نے دوہزار سال بنی نوعِ انسان کو اس مغالطہ میں رکھا کہ زمیں ساکن ہے اور سارے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں،اور ہم نے یقین کر لیا۔ پھر (بقول پروفیسر احمد رفیق اختر کے)ایک دوسرا ٹھگ آیا اور اس نے انکشاف کیا کہ پہلے والا غلط تھا، میں تمہیں صحیح بتاتا ہوں، سورج ساکت ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔اور یوں اڑھائی ہزار سال ان لوگوں نے ساری دنیا کو دھوکے میں رکھا۔ یہاں تک کے قران کریم نے فرمایا (مفہوم) اس کائنات میں ہر شے اپنے اپنے مدار پر گھوم رہی ہے۔
ابھی ہومیوپیتھی میں بی ایچ ایم ایس کی صورت میں بچے آ رہے ہیں ۔ ان کا آنا خوش آئند ہے۔ وہ مذکورہ علوم کا بہت اچھا علم رکھتے ہیں۔لیکن محض اس بات پر ڈپلومہ ہولڈرز کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے کہ ان کی تعلیم کم یا پتھالوجی نہیں آتی ۔جتنی پتھالوجی ہمیں کورس میں پڑھائی جاتی ہے اتنی اگر ہم اپنی پریکٹس میں لاگو کر لیں تو یہ طعنہ نہ سننا پڑے۔
میری نظر میں (اور میں نے سارے پاکستان میں پھر کر دیکھا ہے) جہاں کسی ڈُونگے دیہات میں بھی اگر ایک ہومیوپیتھ بیٹھا دیانت داری سے پریکٹس کر رہا ہے،وہ انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔ لوگ اسے عزت دیتے ہیں۔ اگر ہم لوگ صحیح معنوں میں ہومیوپیتھی سیکھ لیں تو حکومت کی نوکری سے بے نیاز ہو جائیں۔سوال یہ نہیں کہ آپ نے پتھالوجی کی کتنی ڈگریاں اٹھائی ہوئی ہیں، سوال یہ کہ آپ کی پریکٹس کتنی نتیجہ خیز ہے؟
آخر میں ایک سوال ؟
وہ طبقہ جو پتھالوجی کے آسمان کو چھو رہا ہے، اس نے کیا تیر مار لیے؟ کتنے امراض کو ہمیشہ کے لیے(علاج کر کے) ختم کر دیا؟
ہاں یہ ضرور کہ اگر ایک بیماری کو ختم کیا تو وہ مرنے سے پہلے اپنے دس بچوں کو جنم دے گئی۔ اور بیماریوں کے بچے جننے اور عوام الناس کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کاسلسلہ ہنوزجاری ہے۔
ہومیوپیتھی زندہ باد۔
ڈاکٹر بنارس خان اعوان۔
0301-5533966
Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.