showcase demo picture

contempt prior to investigation.” ہومیوپیتھی کا مقدمہ

ہومیوپیتھی کا مقدمہ
ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ
دوستو:
میں آپ کے سامنے ہربرٹ سپنسر کا ایک قول رکھنا چاہتا ہوں۔
147There is a principle which is a bar against all information, which is proof against all arguments, and which cannot fail to keep a man in everlasting ignorance151that principle is contempt prior to investigation.148
پہلے میں اس کااردو ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
ایک ایسا اصول بھی ہے جو ہر دلیل کے آگے بند باندھے کھڑا ہے، جو کسی کو بھی جہالت کے اتھاہ گہرائیوں میں ڈبوئے رکھنے پر قادر ہے۔ اور وہ اصول ہے مذمت قبل از تحقیق۔
اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا (سوشل میڈیا) پر آئے دن ہومیوپیتھی کے خلاف کچھ نہ کچھ لکھا یا بولا جا رہا ہوتا ہے۔
میں آج اس مو ضوع پر اظہارِ خیال کرنا چاہ رہا ہوں
میں نے دیکھا ہے جہاں کسی بات یا معاملہ کو یوں بیان کرنا ہو کہ نہ اس کا فائدہ، نہ نقصان تو کہا جاتا ہے یہ تو ہومیوپیتھک ہے۔ مطلب اس بات کا نہ نفع نہ نقصان۔ یعنی ہومیوپیتھک ہے، گویا یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ہومیوپیتھی ایک بے اثر طریقہِ علاج ہے (خدانخواستہ)۔
میں نے سنا، اگر ایک اینکر پرسن( مثلاً) کسی فوجی جنرل کے بارے میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ بے اثر ہے تو یوں کہہ دے گا فلاں جنرل یا جج تو ہومیوپیتھک ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ فلاں شخص بے اثر ہے (خاکم بدہن ہومیوپیتھی کی طرح)۔
اسی طرح بعض کالم نگار بھی اس ٹرمینالوجی کا سہارا لیتے ہیں۔
اور یوں یہ لوگ اپنی کم علمی(یا جہالت) کے سبب عوام میں بالواسطہ یہ پیغام دیے جا رہے ہیں کہ ہومیوپیتھی ایک بے اثر طریقہِ علاج ہے۔
اسی طرح اگر کسی ادارے کی تضحیک کرنا مقصود ہو تو اسے بھی ہومیوپیتھک کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دوستو، ہم نے دیکھنا ہے کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
حقائق کیا ہیں؟
اللہ تعالیٰ کا قرانِ کریم میں ارشاد ہے(مفہوم) ہر وہ شے جو نفع دیتی ہے، قائم رہتی ہے۔
اگر ہم غور کریں تو تقریباً اڑھائی صدیاں گذرنے کو ہیں ہومیوپیتھی طریقِ علاج نہ صرف قائم ہے بلکہ اس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہومیوپیتھی خلقِ خدا کے لیے سود مند ہے۔
اس کا ثبوت عالمی سطح پر ہومیوپیتھک ادویات کی تیاری اور فروخت سے لگایا جا سکتا ہے۔ آئے دن ہومیوپیتھک ادویات کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام الناس روز بروز اس طریقہِ علاج کی طرف مائل اور مستفیذہو رہے ہیں۔
ایک خبر کے مطابق صرف امریکہ میں ہربل اور ہومیوپیتھ ادویات نے 2012 میں چھ اعشاریہ چار ارب ڈالر کا بزنس کیا۔جو 2017 میں سات اعشاریہ پانچ ارب تک پہنچ گیا۔
فرانس میں پچیس ہزار اور انڈیا میں تین لاکھ ڈاکٹرز ہومیوپیتھک دوائیں تجویز کرتے ہیں۔ اور یورپ میں سو ملین لوگ ہومیوپیتھک علاج کرانا پسند کرتے ہیں۔
اعدادو شمار تو بہت ہیں پر میں اس وقت زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ طریقہِ علاج بے اثر ہے تو پھر اس کی ڈیمانڈ اور مقبولیت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
کیاا س کی ایک وجہ یہ نہیں ہو سکتی کہ لوگ انٹی بائیوٹکس ، کارٹیزون اور انٹی ڈیپریسنٹ دواؤں کے خوفناک بد اثرات کا شکار ہو رہے ہیں، مایوس ہو رہے ہیں اور ان کا رحجان ہومیوپیتھی کی طرف بڑھ رہا ہے؟
کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ (رپورٹ کے مطابق) انٹی بائیوٹکس دوائیں اپنے شفائیہ اثرات کھو رہی ہیں اور ان کے مقابلے میں بکٹیریا اپنی طاقت اور دفاع میں مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے؟
کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ نئی انٹی بائیوٹکس ادوایات کی تلاش اور تیاری تسلی بخش نہیں رہی اور مطلوبہ مقدار میں پُر اثر نئی دوائیں مارکیٹ میں نہیں آ رہی ہیں؟
کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ اس حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ہیلتھ ایمرجنسی ڈیکلئر کی ہوئی ہے؟
دوستو، یہ بات درست کہ کوئی بھی طریقہ علاج چاہے وہ ایلوپیتھی ہو حکمت یا ہومیوپیتھی ، انسانی صحت کو در پیش جملہ مسائل کا کماحقہ حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔اور یہ بات بھی درست کہ ہر طریقہ علاج کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ ہم کسی بھی طریقہ علاج کی مخالفت میں نہیں اور سب کو تسلیم کرتے ہیں۔خاص طور پر ایمرجنسی اور ٹراما میں ایلوپیتھک سسٹم کی بہت اہمیت ہے۔
تاہم ان لوگوں کی طرف سے جوہومیوپیتھی کی الف بے سے بھی ناواقف ہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آ کر اسے بد نام کرتے پھریں ؟
سوال یہ ہے،
کیا ان لوگوں نے ہومیوپیتھی کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے؟
کیا انہوں نے ہومیوپیتھک اصولوں کے مطابق پریکٹس کی اور اسے بے اثر پایا؟
کیا ان کے پاس اس الزام کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں؟
کیا انہوں نے( جو یہ بے بنیاد دعوے کرتے ہیں ) باضابطہ سروے رپورٹ حاصل کی؟
اگر ایسا نہیں ہے تو آخر کن بنیادوں پر ہومیوپیتھی کو بے اثر کہا جا رہا ہے ؟
تو کیا یہ وہی بات نہ ہوئی جس کا میں شروع میں ذکر کر چکا ہوں، یعنی،
contempt prior to investigation.148
کیا ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر ہومیوپیتھک ماہرین کا پینل بلا کر با ضابطہ انہیں ہومیو پیتھی کے دفاع کبھی کا موقع دیا؟
اگر ایسا نہیں ہے تو کیا یہ اخلاقی بانجھ پن کا ثبوت نہیں دے رہے؟
کیا یہ بہتان تراشی کے زمرے میں نہیں آتا؟
اور کیا یہ اپنی بے بنیاد باتوں سے ہر خاص و عام کو ہومیوپیتھک طریقہِ علاج سے بد ظن نہیں کر رہے؟
اور کیا یہ لوگ وطنِ عزیز کے غریب عوام کو سستے علاج سے متنفر کر کے مہنگے علاج کی طرف راغب نہیں کر رہے؟
ہم ایسے لوگوں کی ، جو بلاجواز ہومیوپیتھی پر بے اثر اور بے سود ہونے کی تہمت لگاتے ہیں، مذمت کرتے ہیں۔
کیا آپ میرے ساتھ ہیں؟
دوستو، ہومیوپیتھی جس نے ہمیں بہت کچھ دیا، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم بھی اسے کچھ لوٹائیں۔ میری گزارش ہے کہ آپ سب ہومیوپیتھک فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو قائل کریں کہ وہ اسے عوام میں متعارف کرانے اور اس کا اصل چہرہ دکھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ کیونکہ ان کے پاس سرمایہ ہے اور
ہومیوپیتھی ان سے اپنے حصے کا تقاضا کرتی ہے۔
میری خواہش ہے کہ میری یہ پوسٹ ان لوگوں کی نظر سے گذرے ، جو آئے دن اس پر تابڑ توڑحملے کرتے رہتے ہیں۔اور اگر انہیں اپنے شکوک و شبہات دور کرنے کی ضرورت ہوتو ٹیبل ٹاک کے لیے میری خدمات حاضر ہیں۔
میری نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی کے معزز ممبران سے بھی اپیل ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آئیں اور ہومیوپیتھی کا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کریں۔اوراس کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور کریں۔
میری حکومت سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس سسٹم کی پشت پناہی کرے تاکہ غریب اور امیر بیک وقت اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
دوستو، حقیقت یہ ہے کہ ہومیوپیتھی طریقہ علاج نہ صرف قدرتی بلکہ انسان دوست ہے۔ایسا طریقہِ علاج جس کے اثرات توزدود اثرہیں لیکن بداثرات سے پاک۔
قدرتی اس لیے کہ قوانینِ قدرت سے ہم آہنگ۔ اور جو چیز قوانینِ قدرت سے ہم آہنگ ہوتی ہے اس کے فائدے تو ہو سکتے ہیں، نقصانات نہیں۔
اور اس کا ادراک وہی کر سکتا ہے جس نے ہومیوپیتھی نہ صرف سمجھی اور کی ہو بلکہ اسے اوڑھنا بچھونا بنایا ہو۔
دیکھیے، ہر سسٹم کے اپنے رولز آف دی گیم ہوتے ہیں، سو ہومیوپیتھی میں بھی ایسا ہی ہے۔رہی یہ بات کہ اس پر نان سائنٹفک ہونے کا نعرہ لگایا جاتا ہے، یہ نعرہ اس کے عالمِ وجود سے ہی لگایا جا رہا ہے لیکن اس سے قطع نظر ایک دنیا ہومیوپیتھی سے مستفیذ ہوتی چلی آ رہی ہے۔

سوال یہ ہے،
کیا نعرہ زنی کا شیوہ درست ہے یا اس سے سسٹم سے عملی فائدہ اٹھا نااور شفایاب ہونا؟
ہومیوپیتھی طریقہِ علاج کی افادیت کی میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں،اور اسی پر اپنا بیان ختم کرتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں حاملہ خاتون کو دورانِ حمل بطور درد کش، چہ جائیکہ انٹی بائیوٹکس یا کارٹی زون، محض پیناڈول تک لینے سے بھی منع کیا جاتا ہے۔ جب کہ ہومیوپیتھی میں سارے زمانہِ حمل میں دواؤں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ زچہ و بچہ دونوں صحت مند رہیں۔
اور میں نے اپنی طویل پریکٹس میں اسے آزمایا اور مفید پایا ہے۔
جو خواتین سارے زمانہ حمل میں ہومیوپیتھک ادویات استعمال کرتی ہیں،ایک تو ان کے سیزیرین سیکشن میں جانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں دوسرا بے بی صحت مند رہتا ہے اور اللہ چاہے تو اس کا I.Q لیول بھی ہائی ہوتا ہے۔ آزماکر دیکھ لیں۔
ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ ۔میں اپنی شرحِ صدر سے کہہ سکتا ہوں کہ کرہِ ارض پر اس سے بڑھ کر انسان دوست علاج کوئی نہیں۔ہومیوپیتھی کو ایک موقع دیجیے، یہ آپ کو مایوس نہیں کر گی۔
یہ نومولود کی پہلی چیخ سے لے کر دل کی آخری دھڑکن تک آپ کا ساتھ دیتی ہے۔
ہومیوپیتھ زندہ باد۔
ہومیوپیتھی پائندہ باد۔

Posted in: Uncategorized, Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.