showcase demo picture

میرے مہمان

میرے مہمان
پارٹ۔29
محترم قارئین کرام! دیکھی آپ نے کالی کارب کی ایک جھلک۔ ایک شخص مسلسل نو ماہ تک ہر ماہ سو کلومیٹر طویل پھیرے لگاتا رہا لیکن رشوت دینا گوارا نہ کیا۔ سلیشیا، کلکیریا کارب، کاسٹیکم بھی ہٹ کے پکے ہوتے ہیں۔ میری نظر میں جاوید چوہدری (معروف کالم نگاراور اینکر پرسن)بھی ایسی ہی کسی دوا کی شخصیت ہیں۔
گرتے ہیں کٹ کے سر وہیں جس جاتھمے قدم
یہ لوگ اپنی قوت ِارادی کے زور پر اپنے جذبات کو دبا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان میں بڑا سیلف کنٹرول ہے۔ کالی کارب شخصیات کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن سے آپ آسانی سے ان کا حال دل معلوم نہیں کرسکتے۔ (نیٹرم میور، تھوجا، اورم میٹ)۔ دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا ان کی ڈکشنر ی میں شامل نہیں ہے۔
مثلاًآپ کسی ایسے بوڑھے شخص کو دیکھتے ہیں جو گنٹھیا کے مرض میں مبتلا ہے۔ بیساکھیوں کے سہارے چل رہا ہے۔اچانک سڑک پر گر پڑتا ہے۔ یہ شخص ہزار مشکلوں کے باوجود خود ہی کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا۔اور مدد کے لئے کسی کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔کیونکہ یوں اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔
کالی کارب بیوی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا خاوند محبت کے معاملے میں اس سے مخلص نہیں ہے اور وہ اپنی راتیں کسی اور کے پہلو میں بسر کرتا ہے ساری عمر اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس کی خدمت میں گذار دیتی ہے اور حرف شکایت لب پر نہیں لاتی۔ فرض شناسی، اصول پسندی اور قانون کی پاسداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔اگر ٹیوبر خاتون کی کالی کارب مرد سے شادی ہو جائے تو خاتون کے لئے لائف بہت خشک اور بورنگ ہوتی ہے۔کیوں؟
کیونکہ ٹیوبر کا مزاج ہر لمحہ تبدیلی چاہتا ہے، جب کے کالی کارب کے ہاں یکسانیت ہے۔اس شخص میں حس مزاح کی کمی ہوتی ہے، یہ فاسفورس کی طرح نہ کھل کر ہنستا ہے، نہ نکس وا میکا کی طرح غصے ہوتا ہے،نہ پلسٹیلا کی طرح روتا ہے لہذا ایسی مشین کے ساتھ ٹیوبر نے بور ہی تو ہونا ہے۔
جارج وتھالکس نے لکھا ہے فرض کریں رات کے دو بجے کا وقت ہے۔ آندھی طوفان اور بارش کا سماں ہے اور اس خراب موسم میں کالی کارب اپنے بچے کو جسے شدیدبخار ہو اور خون کی الٹیاں آرہی ہوں۔نیم بے ہوشی کے عالم میں کار کی پچھلی سیٹ پر لٹائے ایمر جنسی میں ہسپتال لے جا رہا ہو۔ ویران اور سنسان سڑک پر اشارے کی سرخ بتی جل جانے پر گاڑی روک دے گااور اشارے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اگرچہ یہ بات مبالغہ آرائی لگتی ہے لیکن کالی کارب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ایک لحاظ سے آپ انہیں پتھر چہرہ،پتھر دل لوگ کہہ سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کا کہا پتھر پہ لکیر ہوتا ہے۔ایسے لوگ جو ٹوٹ تو سکتے ہیں جھک نہیں سکتے۔
فرض کریں ایک عورت جوڑوں کے دردوں کی وجہ سے بستر سے ہل نہیں سکتی۔ رات کو کسی وقت اسے پیاس لگتی ہے ممکن ہے پیاسی رہ لے لیکن یہ پاس سوئے ہوئے خاوند کو جگا کراس کی نیند ڈسٹرب کرنا پسند نہیں کریگی۔کوئی گلہ نہیں کوئی شکوہ نہیں، ہر کام اپنی مدد آپ کے تحت کرنا ان کا سنہری اصول ہے۔
کلکیریا کارب اور کالی کارب دونوں خوب محنت مشقت کرتے ہیں لیکن کالی کارب کے برعکس کلکیریا کارب زیادہ عملی ہوتے ہیں۔ انہیں اپنا کام چلانے کے لیے تھوڑی بہت بے اصولی بھی کرنی پڑے تو اسے کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ شدید محنت مشقت کے حوالے سے یہ نکس وامیکا کی مانند ہیں۔ دونوں اپنے فرائض کی تکمیل میں جان لڑا دیتے ہیں۔تاہم پھر وہی بات، کالی کارب دیانت داری کا دامن نہیں چھوڑتا،نکس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ نکس جب مقابلہ بازی پہ آجائے تو بازی جیتنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے، کہیں تک بھی جا سکتا ہے۔
یہ لوگ دوسروں کے سامنے ان کی ایک ایک خامی مکمل تجزیے اور دلائل کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا پرواہ نہیں کرتے کہ کہیں اس کا دل دکھی نہ ہوجائے کہیں وہHurt نہ ہو جائے۔
چونکہ چھوٹے موٹے معاملات اور بیماریاں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ Heart Attack ، Kidney Failure اورکینسر جیسی بڑی اور خوفناک بیماریوں سے مرتے ہیں۔لیکن ایک بات جو میں ان لوگوں کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں۔ہمارے منافقت زدہ معاشرے اور سوسائٹی میں یہ لوگ بڑے ان فٹ ہوتے ہیں۔
رابن مرفی نے اسے دل کے پٹھوں کی کمزوری کے لئے تجویز کیا ہے۔ زچگی اور ابارشن کے بعد کی کمزوری کی دوا ہے۔ صبح دو بجے سے چار بجے کے درمیان اس کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہواری سے پہلے جنسی موضوعات کے خواب اور پستانوں کی سوجن اس کی خاص الخاص علامت ہے (کلکیریا کارب، کونیم، لیک کین)۔ مریضہ ماہواری سے پہلے چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتی ہے۔
ایسے جلدی امراض جو بچپن میں دب گئے ہوں یا نمونیہ کے بعد مریض کبھی صحت مند نہ رہا ہو۔مرکیورس کی مانند یہ شخص بھی ماحولیاتی تبدیلی سے فوری اثر لیتا ہے۔کمرے میں لگے بجلی کے پنکھے اور اے سی کا ریگولیٹر اس کے ہاتھوں اوپر نیچے ہی ہوتا رہتا ہے۔ہیپر سلفر کی مانند ہوا کا جھونکا ناقابل برداشت۔مثانے کی کئی پرانی شکایات میں یہ نیٹرم میور کے مشابہ ہے۔(جے ٹی کینٹ)۔
ایک ایسا شخص جو انیمیا کا شکار ہو، دوران خون کی سستی،پٹھوں کا ڈھیلا پن، استسقائی سوجن، ذرا سی محنت سے تھک جاتا ہو، کالی کارب کی تصویر پیش کرتا ہے۔ٹھنڈی دوا ہے،باالعموم ساری کالی دوائیں ٹھنڈے خشک موسم سے اثر لیتی ہیں۔ پلسٹیلا اور کالی بائی کرومیکم کی طرح اس کی دردیں بھی جگہ تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ سویاں چبھنے جیسے درد پائے جاتے ہیں۔ سویاں چبھنے جیسے درد برائی اونیا میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن دونوں میں فرق یاد رکھیں۔ برائی اونیا کی دردیں حرکت سے مشروط ہیں جب کہ کالی کارب میں یہ شرط نہیں۔دوسرا فرق یہ ہے کہ برائی اونیا کی دردیں عموماً بلغمی جھلیوں میں جب کہ کالی کارب کی جسم کے کسی حصے حتیٰ کہ دانتوں میں بھی پائی جاسکتی ہیں (نیش)۔زچگی کے بخار میں اگر مریضہ کو سویاں چبھنے جیسے درد ہوں تو کالی کارب یقینی دوا ہے (نیش)۔سینے کا نچلا دایاں حصہ اس کا مرغوب مقام ہے۔یہاں سے دردیں پشت کو پھیلتی ہیں۔
ایسی بواسیر جس میں شدید جلن اور دردیں پائی جائیں اس میں کالی کارب اور آرسنک دو ٹاپ کی دوائیں ہیں۔حوالہ: (Gaskin.A Comparative study of Mat.Medica)
فیرنگٹن کے بقول بیک وقت پسینے کی زیادتی،کمر درد اور کمزوری سوائے کالی کارب کے اور کسی دوا میں نہیں ملتی۔ لندن کی ڈاکٹر ایم ایل ٹائلر نے اس دوا کی ایک خصوصی علامت کی مدد سے کئی مریضوں کا کامیاب علاج کیا اور وہ علامت ہے،اچانک شور یا بری خبر کے نتیجے میں ہونے والا خوف جسے مریض اپنے معدہ میں محسوس کرتا ہے۔یعنی اس کے معدہ کو ایک دم سے کچھ ہو جاتا ہے۔اسی علامت پر میزیریم کو یاد رکھیں۔
کاربو ویجی اس کی تکمیلی دوا ہے۔دمہ کے مریضوں میں یہ اکثر آگے پیچھے ظاہرہوتی ہیں۔
بقول رابن مرفی مندرجہ ذیل کلینیکل حالتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔
Amenorrhea. Anemia. Asthma. perspiration. Backache. Bronchitis. Catarrh. Chilblains. Colds. Coughs. Debility. Dropsy. Dysmenorrhea. Dyspepsia. Face, blotches. Freckles. Hair disorders. Headache. Heart disorders. Hemorrhage. Hemorrhoids. Hip-joint disease. Hydrothorax. Hysteria. Kidneys disorders. Larynx, Leucorrhea. Liver disorders. Lumbago. Lungs disorders. Menopause disorders. Menorrhagia. Metrorrhagia. Pleurisy. Pneumonia. Pregnancy disorders. Sciatica. Sleeplessness. Spinal irritation. Stomach disorders. Stomach pain. Tuberculosis. Typhoid. Urination, frequent. Urticaria. Uterus, cancer.
ابھی ہم بات کر رہے تھے ایسی شخصیات کی جن کے جذبات ان کے دماغ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔
اب ہم ایسی شخصیات کا ذکر کرتے ہیں جن کے جذبات ان کے دماغ پر حکمرانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جذبات میں آتے پہلے اور سوچتے بعد میں ہیں۔کسی بھی انکشاف یا نئی اور دلچسپ خبر پر فوراً ہکا بکا ہو جانا اور چہرے پر شدید حیرانگی کے تاثرات کا ابھرناان کی کلیدی علامت ہے۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.