showcase demo picture

کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ) (پارٹ ۔30)


متحرم قارئین،ہم آپ کی خدمت میں مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹرمرزا انور بیگ کی کتا ب سے اقتباسات پیش کرتے رہیں گے۔
امید ہے کہ آپ کو پسند آئے گا۔
کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ)
(پارٹ ۔30)
ایک خاص بات کہ جب امریکہ کی بستیار یونیورسٹی کی چیف اِنویسٹی گیٹر کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی تھی اور جو یہ تھی کہ جس مریض میں ایڈز کے وائرس زیادہ ہوں گے اس کے بچنے کے امکان زیادہ ہے۔اس بات کو اب ہو گئے بیس برس مگر اب بھی میری اس ریسرچ کو خاطر خواہ سمجھا ہی نہیں گیا اسلئے کہ میں انڈیا میں رہتا ہوں،امریکہ میں نہیں۔اس موضوع پر امریکہ میں ،میں نے جو اپنا پرچی پڑھا تھا،وہاں کے کچھ ڈاکٹروں نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہاں رُک جاؤں۔میری دیرینہ،کالج کی دوست امر جیت دھاردیوال کی بھی یہی خواہش تھی۔ڈاکٹر دھاریوال اب بین یعنی کہ مسز بین ہو چکی ہے،امریکہ میں ایک مشہور ڈاکٹر ہے۔امریکہ میں اس نے میرا بڑا دھیان رکھا تھا۔سیکس نے جڑی ان بیماریوں کی اپنی یہ ریسرچ کہ۰ جس کو میں نے اپنے انڈیا کے پرانے ویدک حساب سے جوڑا تھا اور جو بیسویں صدی کی الگ الگ وائرس تھیوری سے جُڑ چکا تھا۔یعنی ویدگ گیان کے دوش کو میں نے وائرل افیکشن سے جوڑا تھا۔دوش کہتے ہیں ناپاکی کو۔کیا آپ کی سمجھ میں آیا؟انڈیا کا ویدک گیان دوش کی تھیوری،آج کی ماڈرن سائنس ثابت کر رہی ہے جسے اپنے تجربوں سے اور میں انہی کی زبان میں انہیں سمجھاتا ہوں جیسے کہ امریکہ کی یہ بستیار یونیورسٹی۔آج بھی “فیس بک”پر مجھے فالو کرتی ہے۔خیر قصّہ مختصر جو میں ثابت کر رہاہوں وہ یہی ہے مگر!
مگر انڈیا کی ایک انگریزی کے اخبار نے اسے یعنی میری ریسرچ کو ایک شیخ چلی کی دریافت سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔اس کا اندازہ اس تصویر سے جو اس اخبار کا راشہ ہے،مجھے بھنڈی بازار کے ایم ڈی کے طور پر متعارف کیا گیا ہے۔
کہنے کو میری ریسرچ کا مذاق ہی تو تھا مگر انڈیا کے ہی کچھ اُردو اور ہندی کے اخباروں نے اسے ہعنی کہ اس کے مفہوم کو سمجھا اور میری پذیرائی کی۔یہی وہ باتیں ہیں یا کہ تھیں۔
میرے ہر ایک سفر میں ایک کے بعد دوسری جکڑن کا احساس باری رہا اور کہ جواب بھی ہے مطلب اس جکڑن سے مجھے نجات نہیں ملتی کہ جو انسانیت کے لئے میرے دل میں جا بجا ظاہر ہوتی رہتی ہے۔میں خود اس سے نجات نہیں پاتا تھا یا کہ کہوں نجات حاصل ہی نہیں کرنا چاہتا۔
“ہومیوپیتھی رائندہ درگاہ”میری ایک کتاب”دل کا پانچواں خانہ”کی رونمائی ایک فائیواسٹار ہوٹل میں ہوئی تھی ۔بڑے بڑے لوگ وہوں موجود تھے۔وہ ایک ایسا پیچیدہ کیس تھا کہ جو دل لے کی پیدا ہوا تھا۔ آپ نہیں مانیں گے اس بات کو مگر میں بھی نہیں مانا تھا۔ہاں مگر میں نے اس بچے کا علاج کیا تھا وہ بھی ہومیوپیتھی سے۔ہومیوپیتھی کو جب لوگ اہمیت نہیں دیتے تب میری اس ریسرچ کو کیوں دیں۔ ہومیوپیتھی آج بھی راندہ درگاہ ہے،بقول سردار جعفری صاحب۔ سردار جعفری اردو کے عظیم شاعر جنہوں نے میری کسی دوسری کتاب کی رونمائی میں یہ الفاظ کہے تھے اور کہ جو آج تک میرا پیچھا کر رہے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.