showcase demo picture

کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ) (پارٹ ۔26)


متحرم قارئین،ہم آپ کی خدمت میں مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹرمرزا انور بیگ کی کتا ب سے اقتباسات پیش کرتے رہیں گے۔
امید ہے کہ آپ کو پسند آئے گا۔
کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ)
(پارٹ ۔26)
اب میں آپ کو ایک ایسی شخصیت سے متعارف کروارہا ہوں حا لانکہ جس کا تذکرہ کر چکا ہوں جو میرا عزیز دوست تھا۔یوں سمجھ لے کہ ہومیوپیتھی کی میری رغبت اسی کی مرہونِمنت تھی یا ہے۔ان کا نام ڈاکٹر کُلے تھا۔ممیئی کے مہارا شٹر کالج میں فلاسفی کے پروفیسر رہ چکے تھے بہت پریلیئنٹ،انٹیلکچول تھے۔یوں سمجھ لیجئے آل اِن ونتھے۔یعنی موسیقی،شاعری وغیرہ میں بھی بھر پور دلچسپی رکھتے تھے دراصل تھے ایک جینیس۔پہلے انھیں شاعری سے چڑھ تھی۔ٹھیک اسی طرح جیسے پہلے مجھے ہومیوپیتھی سے چِڑھ تھی انہیں بھی تھی۔بعد میں وہ ایک اچھے ہومیوپیتھ ثابت ہوئے۔اسی طرح اردو شاعری سے انھیں رغبت ہوئی تو بھر وہ ایک شاعر بن گئے۔اور بہت اچھی غزلیں اور نظمیں لکھی ہیں انھوں نے۔وہ زراریزروقسم کے انسان تھے۔جلدی کسی سے دوستی نہیں کرتے تھے۔میری ان سے بامبے یونیورسٹی کے سامنے سموسر نام کے ہوٹل میں اکثر ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں جہاں میری ماقات ایم ایف حسین سے ہوئی تھی۔دوپہر کا لنچ ہم لوگ وہیں کرتے تھے۔ہمارا لئچ بیٗر سے ہوتا تھا۔وہ بیئر پینے کے بے حد شوقین تھے۔ہوٹل میں ہم لوگوں کی ہومیوپیتھی پر خوب باتیں ہوا کرتی تھیں۔ہومیوپیتھی کی بہت سی باتیں میں نے ان سے سیکھیں۔میری کمپنی وہ بہت پسند کرتے تھے۔کچھ اس طرح دل لگ گیا تھا ہمارا کہ اگر کسی دن ہم لوگ نہیں ملتے تو ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔میرے پاس ایک فیئٹ کار تھی جس کا نمبر بھی مجھے ابھی تک یا د ہے۔ایم آر ڈبلیو 5061تھا جبکہ مجھے اپنی ہر نئی کار کا نمبر تک یاد نہیں رہتا۔وہ ایکغریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے مگر انھوں نے اپنی محنت لگن سے جو مقام حاصل کیا وہ واقعی اس کے حقدار تھے۔انھوں نے پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا۔ممیئی کی لوکل ٹرین اور بس میں انھوں نے کبھی سواری نہیں کی۔جب تک کار نہیں تھی وہ ہمیشہ ٹیکسی سے سفر کرتے رہے۔نام ان کا فقیر کُلے تھا مگر مزاج شاہا نہ تھا،اس لئے ہر کام شاہانہ طریقے سے کیا کرتے تھے۔اس سے پہلے انھیں فینی پی پی کر ان کا پیٹ خراب ہو گیا تھا۔اس لئے جب وہ گودا میں تھے تب ان کی حالت بے حد خراب ہو گئی تھی۔اور وہ کومامیں چلے گئے اور ااسی حالت میں وہ ای جی کے مینن کا نام لے رہے تھے۔وہ بڑ بڑایا کرتے تھے کہ انھیں ہومیوپیتھی علاج کی ضرورت ہے۔اسی لئے ابھی گو واسے ممبئی لایا گیا۔ اس وقت ممبئی میں ہومیوپیتھی کے ایک ہی مشہور و معروف ڈاکٹر تھے جن کا کھار میں ایک اسپتال بھی تھا۔ان کا نام تھا یو۔ایم۔مینن۔ہمارے ایک کامن دوست تھے علی ایم شمسی جو ایک اسکول ٹیچر تھے۔وہ ہی انھیں گووا سے ممبئی لے آئے۔ڈاکٹر ہو ایم مینن کے اسپتال میں داخل کرا دیا۔چونکہ وہ کوما میں تھے اس لئے وہ ان ڈاکٹر مینن یعنی کہ میرے گرو کا نام نہیں لے پا رہے تھے مگر جسے ہمارے دوست شمسی نے سمجھ لیا تھا۔اس لئے میرے گرو ڈاکٹر ای جی کے مینن کی جو ہومیو پیتھی کے بہت بڑے جانگار تھے۔ انھیں بلوایا گیا۔انھوں نے ایک دوا تجویز کر انھیں دے دی۔ صبح جب اسپتال کے اصل مالک ڈاکٹر یو ایم مینن آئے اور انھوں نے کوما زدہ مریض کو ٹھیک ٹھاک دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے۔تو یہ تھا کمال ہومیوپیتھی کا یعنی ایک ڈاکٹر کا حکمت عملی میں ماہے ہونا پہلی شرط ہے۔کتابی علم،ڈگری تو بہت بعد کی چیزیں ہیں۔آن دی اسپاٹ حالات کا جائزہ لے کر فوری عقل کا استعمال کر کے زخمی یا سنجیدہ مریض کو بذریعہ حکمت تکلیف سے وقتی ہی سہی آرام دلایا جا سکتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔
Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.