showcase demo picture

کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ) (پارٹ ۔28)

متحرم قارئین،ہم آپ کی خدمت میں مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹرمرزا انور بیگ کی کتا ب سے اقتباسات پیش کرتے رہیں گے۔
امید ہے کہ آپ کو پسند آئے گا۔
کتاب(ایک سرجن کا سفر)سے انتخاب(مرزا انور بیگ)
(پارٹ ۔28)

کتابت پر مجھے میری پہلی کتاب”نفس امارہ”یاد آ رہی ہے۔ہوا یہ تھا کہ جب میں نے اپنا مطب شروع کیا اوپیرا ہاؤس میں ایک سیکس اسپیشلسٹ کی حیثیت سے۔میرے زیادہ تر مریض عرب تھے یا پھر فلموں میں کام کرنے والی ایکسٹرا اداکارائیں۔ان دنوں ہم باندرہ کے اپنے گھر راحت منزل میں رہتے تھے۔راحت منزل باندرہ تا لاب کے پاس ہے اور یہاں واقعی راحت ملتی ہے،کھلی جگہ جو ہے چاروں طرف۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی کتابت کی،نفس یعنی سیکس کا عنوان آ گیا اور پھر فلم اداکارائیں وہ بھی ایکسٹرا۔
میرے ساتھ مشکل یہی ہے کہ بات پر بات نکلتی ہے اور اس کے پیچھے افسانہ۔اور یہاں میں اس کا ذکر کروں تو مجھے اپنے پرانے دوست،کالج کے زمانے کا،وہ بھی سائنس کا لج کا نہ کہ میڈیکل۔حالانکہ میڈیکل میں بھی ہم ساتھ تھے۔نام ہے سنت کمار کٹارے۔ہمیشہ ہنستے رہتا تھا وہ بھی ٹھہا کے مار کر۔ڈاکٹر کٹارے نے جلدی امراض میں مہارت حا صل کی اور بیرونی ممالک میں نوکری۔ایک عرصہ تک وہ مغربی عرب ملکوں میں رہا اور وہاں کی تہذیب وتمدن سے اسے بہت ساری واقفیت تھی۔اس نے وہاں کی ایک رسم بتائی تھی جو ایران سے ہوتے ہوئے وہاں پیونچی تھی۔رسم تھی شادی کے بعد سہاگ رات منانے کے دوسرے روز اس چادر کو خوشیاں مناتے ہوئے دلہن کے رشتے دار گھمایا کرتے تھے،پاکبازی کے ثبوت کے طور پر۔خون کے قطرے ثبوت تھا۔
ہے نہ بہت مشکل،جس کے پاس یہ ثبوت نہ ہو اس کی تو زندگی حرام۔اسلئے ڈاکٹروں کے پاس آنا پڑتا ہے۔آج کے کچھ ماڈرن اسپیشلسٹن سرجن مصنوعی طور پر اس پردے کو لگا دیتے ہیں جو پہلی بار مجامعت سے پھٹ جاتا ہے اور جس سے خون کے قطرے نکلتے ہیں جو اس چادر پر پڑتے ہیں کہ جو حُجلہ عروصیت کے پلنگ پر بچھائی گئی ہو۔ایران و عرب کی کچھ پرانی دائیاں عمل جراحی کے ایسے فن سے واقف تھیں کہ جس کے لئے آج کی کچھ عروسوں کو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو جسے آج کے کچھ سرجن کرتے ہیں مصنوعی طورپر پردہ یعنی ہائی من بنا دیتے ہیں جوبعض اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ پھٹتا نہیں تب دلہن کو نہیں دولہے کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔
ایک لیڈی ڈاکٹر جو مقامی تھی اس نے پرانی کسی دایہ سے اس فن کو سیکھ لیا تھا۔ وہ ایک خاص طرح سے شگاف لگانا ہوتا کہ جس سے دونوں کو شرمندگی نہ ہو اور ثبوت بھی مہیا کیا جا سکے۔بہر کیف اس ہنر کو میں نے جب اپنی پریکٹس میں آزمایا تب کامیابی ملی۔میری،اس ضمن میں،پہلی مریضہ ایک ایرانی دو شیزہ ہی تھی جو فلموں میں ایکسٹرا کا کام کرتی تھی۔ اس کی شادی ایران میں ہونے جا رہی تھی جہاں شاید یہ رسم ہو یا تھی واللہ عالم۔مگر میری وہ سرجری کامیاب تھی،نہ اُسے شرمندہ ہونا پڑا نہ اُس کے اُس کو۔
جاری ہے۔۔۔۔

Posted in: Urdu
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Theme Features

Welcome to the Zen Theme which is best used for personal blogging. Here is a list of some of the special features you will be able to take advantage of when customizing your website and blog:
  • Theme Control panel
  • Customize colours, layout, buttons, and more
  • Dynamic widgets with varied widths
  • Up to 8 Widget Positions
  • Built-in Social Networking
  • Google Fonts for Headings and site title
  • and a lot more...

Relax With Herbal Teas

When enjoying your moment of zen, it's best to enjoy fresh herbal teas for relaxation. Of course, choosing the right zen teas requires the expertise of asian herbalists.

Recent Posts

Check out the recent articles posted here at Zen and keep up to date with the latest news and information about having a zen lifestyle.